مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 543 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 543

مضامین بشیر جلد چهارم 543 انتیس 29 فی صدی حصہ ملتا ہے یا کہ ستائیں 27 فی صدی۔(3) وزیر اعظم اور سپیکر لازماً اکثریت والی قوم یا پارٹی کے ہوں۔سوائے اس کے کہ اکثریت والی قوم یا پارٹی از خود اس حق کو عارضی طور پر کسی دوسری قوم یا پارٹی کی طرف منتقل کر دے۔(4) قلمدانوں کی تقسیم وزیر اعظم کے اختیار میں ہو مگر اس سے توقع کی جائے کہ وہ مختلف قوموں یا پارٹیوں کی ضرورت اور مناسبت کو واجبی طور پر لوظ رکھے گا۔اور بہر حال گورنر کے مشورہ کے بعد آخری فیصلہ دے گا۔(5) ہر اس قوم یا پارٹی کو وزارت میں حصہ دار بننے کا حق ہو جس کا اس صوبہ کی آبادی میں جس کی وزارت کا سوال در پیش ہو کم از کم آٹھ فی صدی یعنی بارھواں حصہ ہے۔اس سے کم آبادی والی قوم یا پارٹی کو (اگر اسے وزارت میں حصہ نہ ملے تو ) پارلیمنٹری سیکرٹریوں اور انڈرسیکرٹریوں وغیرہ کی صورت میں مناسب حصہ دیا جاوے، اس مزید شرط کے ساتھ کہ ہندوستان دو بڑی قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں ( جن پر ملک کے امن کا زائد از اشتی 80 فیصدی دارو مدار ہے لازماً ہر صوبہ میں کم از کم ایک وزارت ملے۔خواہ کسی صوبہ میں ان کی تعداد آٹھ فی صدی سے کم ہی ہو۔(6) وزارت بنانے کے لئے ان قوموں یا پارٹیوں کے نمائندوں سے وزیروں کا انتخاب کیا جائے جو صوبہ کی اقوام یا مجالس قانون ساز کے ارکان میں سب سے زیادہ اکثریت رکھتی ہوں مثلاً موجودہ حالات کے لحاظ سے مسلمانوں میں مسلم لیگ۔سکھوں میں پنتھک پارٹی وغیرہ وغیرہ۔البتہ ہر قوم کو یہ اختیار ہو کہ وہ کسی اور قوم یا پارٹی کے نمائندوں کو اپنے حصہ میں اپنے ساتھ شامل کر لے۔(7) ہندوستان کی موجودہ سیاسیات میں اوپر کی اغراض کے ماتحت ہندوؤں، مسلمانوں، اچھوت اقوام ،سکھوں ، ہندوستانی عیسائیوں، پارسیوں اور قبائل مخصوصہ کو مستقل قوموں اور پارٹیوں کی حیثیت میں تسلیم کیا جائے۔اگر کسی صوبہ میں جس میں قبائل مخصوصہ آٹھ فی صدی یا اس سے زیادہ ہوں۔کوئی شخص قبائل مخصوصہ میں سے وزارت کا اہل نہ ملے۔(جس کا فیصلہ گورنر کے ہاتھ میں ہوگا ) تو جس قوم یا پارٹی کی طرف اس صوبہ کے قبائل مخصوصہ کا زیادہ رجحان ہو۔(اس کا فیصلہ بھی گورنر کے ہاتھ میں ہوگا ) اس قوم یا پارٹی کو وزارت میں اس صوبہ کے قبائل مخصوصہ کی نمائندگی کا حق ہوگا اور بصورت دیگر گورنر خود اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کسی قوم یا پارٹی یا کس کس قوم یا پارٹی کو اس صوبہ کی وزارت میں قبائل مخصوصہ کی نمائندگی کا حق ملنا چاہئے (خیال رہے کہ اچھوت اقوام سے قبائل مخصوصہ جدا گانہ حیثیت رکھتے ہیں اور زیادہ تر آسام۔بہار اور سی۔پی