مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 539 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 539

مضامین بشیر جلد چهارم 539 تڑپ کے ساتھ زبان پر آئیں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو بعید نہیں کہ خدا آپ پر رحم کرے اور اپنے مبارک منشاء کو آپ پر ظاہر فرمائے۔اور یا ویسے ہی ان دعاؤں کے نتیجہ میں آپ پر حق کھل جائے۔اے خدا! تو اپنے فضل ورحم سے ایسا ہی کر اور اپنے پاک مسیح کے نام لیواؤں کی ہدایت کا سامان پیدا کردے۔آمِنینَ یا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ بالآخر گومیں اس کا عادی نہیں اور اس قسم کے اظہار سے طبعا گریز کرتا ہوں مگر اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کی ہدایت کی غرض سے اس جگہ اپنی بھی ایک رؤیا بیان کئے دیتا ہوں تا شاید وہی کسی بھٹکے ہوئے دوست کی ہدایت کا موجب بن جائے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنياتِ۔قریباًدوسال یا شاید سوادوسال کا عرصہ ہوا جبکہ ابھی حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کی طرف سے مصلح موعود کے بارے میں کوئی معین اعلان نہیں ہوا تھا اور نہ آپ پر اس بارے میں خدا کی طرف سے کوئی انکشاف ہی ہوا تھا اور میرے وہم و گمان میں بھی مصلح موعود والی پیشگوئی کا مضمون نہیں تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھی۔میں نے دیکھا کہ میں اپنے مکان کے محن میں کھڑا ہوں اور اسی صحن کے شرقی جانب جو مکان حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔جس میں آجکل حضور کی حرم اول سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ رہتی ہیں۔اس کے سب سے بالائی حصہ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک علیحدہ خانگی مسجدسی بنا رکھی تھی۔ایک خوبصورت نوجوان کھڑا ہوا ہمارے صحن کی طرف جھانک رہا ہے۔اس نوجوان کا رنگ شفاف اور سفید تھا جو اپنی سفیدی کی وجہ سے گویا چمک رہا تھا۔میں نے جب اس نوجوان کی طرف نظر اٹھائی تو اشارے کے ساتھ اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔اس نے اس کے جواب میں مجھے آہستہ سے کہا۔” خلیفہ الدین یعنی خلیفہ کے لفظ کے بعد کوئی لفظ بولا۔جو میں سمجھ نہیں سکا اور آخری لفظ الدین تھا۔اس پر میں نے تصریح کے خیال سے سوالیہ رنگ میں کہا۔” خلیفہ ناصرالدین صاحب؟“ اس نے غالباً سر ہلا کر جواب دیا کہ نہیں۔بلکہ میرا نام کچھ اور ہے۔جس پر میں نے کہا ” خلیفہ صلاح الدین؟“ اس پر اس نے آہستگی کے ساتھ گویا اس بات کو مخفی رکھ کر بتا رہا ہے۔عربی میں جواب دیا نَعَم “ پھر میں قدم بڑھا کر اپنے کمرہ کی طرف جانے لگا۔تو جب میں دروازہ کے قریب پہنچا تو یہ نو جوان نہایت آہستگی اور وقار کے ساتھ ہوا میں اُترتا ہوا میرے دائیں کندھے پر اس طرح آبیٹھا کہ اس کی ایک ٹانگ میرے سامنے کی طرف آگئی اور ایک پیچھے کی طرف پیٹھ کے ساتھ رہی اور منہ میری طرف تھا۔جونہی کہ یہ نوجوان میرے کندھے پر اترا۔میں نے اس کی ٹانگوں کو سہارا دینے کے رنگ میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ تھام لیا اور اسے آہستگی کے ساتھ کہا ”بڑی دیر سے آئے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔صبح اٹھنے پر 66