مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 537 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 537

مضامین بشیر جلد چهارم 537 موعود کے ساتھ بالواسطہ اور بعض الفاظ مصلح موعود ہی کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔اصل بات یہ ہے اور افسوس ہے کہ اس بات کو اکثر لوگوں نے ابھی تک نہیں سمجھا کہ مصلح موعود کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں میں بشیر ثانی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔جیسے کہ فرمایا ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا“۔اس سے ظاہر ہے کہ مصلح موعود صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی مثیل نہیں بلکہ حضور کے متوفی لڑکے بشیر اول کا بھی مثیل ہے۔یعنی اس کی بالقوۃ استعدادوں کا وارث ہے۔اس لئے 20 فروری 1886 ء والے الہامات کا ایک حصہ گو بیشک اصالۂ بشیر اول سے تعلق رکھتا ہے۔مگر اس کے مثیل ہونے کے لحاظ سے وہ بالواسطہ مصلح موعود پر بھی چسپاں ہوتا ہے اور اس طرح یہ ساری پیشگوئی ہی دراصل مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی قرار پاتی ہے۔کچھ براہ راست اور کچھ بالواسطہ۔میری یہ تشریح خدا کے فضل سے ایسی ہے کہ اسے غور سے مطالعہ کرنے والے انشاء اللہ اس کے ذریعہ بہت سے مخفی علوم کو پائیں گے اور انہیں کئی الجھنوں کا علاج مل جائے گا مگر افسوس ہے کہ میں خود اس جگہ اس کی زیادہ تفصیل میں نہیں جاسکتا اور اسی اشارہ پر اکتفا کرتا ہوں۔لیکن کسی ربانی موعود کے متعلق اصل سوال علامات کا بھی نہیں ہے کیونکہ علامات بھی ایک درمیانی چیز ہیں بلکہ اصل سوال اور اصل مقصد ا سے قبول کر کے خدائی انعامات کے وارث بننے سے تعلق رکھتا ہے اور چونکہ مصلح موعود کا کام جیسا کہ اس کے نام اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے الہامات سے ظاہر ہے اندرونی اور بیرونی اصلاح ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے دعوی کا سب سے پہلا اور سب سے ضروری نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ آپ کو ماننے والے آپ کے اس خدا داد منصب کو لوگوں تک پہنچائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کو دنیا کے سامنے ایک عظیم الشان آیت اور نشان کے طور پر رکھیں اور دوسری طرف نہ ماننے والوں پر سب سے پہلا فرض یہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس خدائی انکشاف کے بارے میں جو ایک رحمت کے نشان کا مقدمہ ہے۔خالی الذہن ہو کر غور کریں اور اگر اسے سچا پائیں تو اس کا انکار کر کے خدا کے غضب کو بھڑکانے والے نہ بنیں۔اس ذیل میں ہمارا سب سے پہلا خطاب اپنے غیر مبائع بھائیوں سے ہے جو ہمارے قریب تر ہیں اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں کو خدائی وحی یقین کرنے اور آپ کی پیشگوئیوں پر ایمان لانے کے مدعی بنتے ہیں۔آج سے پہلے تو وہ عموماً یہ کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے کہ جب خود حضرت میاں صاحب کو ہی مصلح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ ان پر اس بارے میں خدا تعالیٰ نے کوئی انکشاف کیا ہے تو ہم خواہ مخواہ کیوں اس طرف توجہ دیں اور خدا پر نقدم کرنے والے کیوں بنیں مگر اب تو ان کا یہ عذر بھی خدا نے توڑ دیا ہے اور حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے خدا کی طرف سے