مضامین بشیر (جلد 4) — Page 535
مضامین بشیر جلد چهارم 535 تربیت کا ذریعہ بنا لیتے تھے بے ساختہ فرمایا ” کیا تم سب سے اشرف کی بابت پوچھتے ہو؟ سب سے اشرف تو حضرت یوسف ہیں کہ خود نبی، باپ نبی، دادا نبی، پڑدادا نبی۔یہ کیسے پیارے الفاظ تھے جنہوں نے عربوں کے دنیوی تفاخر کے جذبہ کو جڑ سے کاٹ کر ان کے خیالات کو دینی بڑائی اور شرافت کے رستہ پر ڈال دیا۔واقعی اس میں کیا شبہ ہے ( اور یہ نظارہ غالباً دنیا نے اس کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا ) کہ ایک شخص نہ صرف خود خدا کا برگزیدہ نبی بنتا ہے بلکہ مسلسل چار پشتوں تک اس کی اولا د نبوت کا بلند رتبہ انعام پاتی چلی جاتی ہے۔پس حضرت یوسف تو اس لحاظ سے اشرف تھے کہ وہ نہ صرف خود نبی تھے بلکہ ایک نبی کے بیٹے اور نبی کے پوتے اور نبی کے پڑپوتے تھے اور حضرت ابراہیم اس لحاظ سے اشرف تھے کہ نہ صرف خود ایک عظیم الشان نبی تھے بلکہ ایک نبی ( بلکہ دونبیوں) کے باپ اور نبی کے دادا اور نبی کے پڑدادا بھی تھے۔اللہ! اللہ! یہ کیسا عظیم الشان شرف ہے جو اس خاندان کو حاصل ہوا جو حقیقتا تاریخ عالم میں عدیم المثال ہے۔مگر حضرت ابراہیم کے قریباً چار ہزار سال بعد ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں پھر خدا نے اپنے ایک برگزیدہ بندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابراہیم کے پاک خطاب سے یاد فرمایا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ اس مبارک نام سے پکارا۔جیسا کہ مثلاً ایک الہام میں فرمایا۔اِنِّى مَعَكَ يَا إِبْرَاهِيمُ۔اور ایک دوسرے الہام میں فرمایا۔انا أَخْرَجْنَا لَكَ زَرُوعًا يَا إِبْرَاهِيمُ۔پس ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی کوئی خصوصیت اس نوع کی پائی جائے جو ابوالانبیاء حضرت ابراہیم میں پائی جاتی تھی اور وہ خصوصیت یہی نسلی اصطفاء کی خصوصیت تھی۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں اس خصوصیت کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتے ہیں۔میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار اس جگہ یقینا نسل سے عام نسل مراد نہیں کیونکہ نیک لوگوں کے نزدیک محض اولاد کا ہونا یا زیادہ اولا د کا ہونا ہرگز کوئی فخر کی بات نہیں۔بلکہ اگر اولاد گندی ہو تو اس کا وجود باعث ننگ و عار ہوتا ہے اور ایسی اولاد کی کثرت اس ننگ و عار کو اور بھی زیادہ بھیا نک بنادیتی ہے۔پس لاریب اگر خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابراہیم کے نام سے یاد کیا اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نام کی تشریح میں اپنے کثیر النسل ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔تو اس میں ہرگز ہرگز محض اولاد یا محض کثرت اولاد مراد نہیں ہو سکتی تھی۔بلکہ ابراہیمی طریق پر اولاد کے ایک حصہ کا اوپر تلے اور نسلاً بعد نسل خاص طور پر باخدا ہونا مراد ہے اور ابراہیم کے