مضامین بشیر (جلد 4) — Page 524
مضامین بشیر جلد چهارم 524 غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ والد بزرگوار کے انتقال کے وقت آپ کی عمر چالیس برس کے قریب تھی۔اس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ سلسلہ مکالمات الہیہ کے شرف کے وقت آپ نے اپنی عمر متعدد مقامات پر چالیس برس بیان فرمائی ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ آپ کے والد ماجد کی وفات کب ہوئی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تصنیف سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 150 پر آپ کے والد بزرگوار کے انتقال کو 1876ء میں قرار دیا ہے۔لیکن جہاں تک مجھے علم ہے۔اس واقعہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر فیصلہ کن ہے اور وہ یہ ہے کہ نزول اسیح صفحہ 117-118 پر آپ تحریر فرماتے ہیں۔” آج تک جو دس اگست 1902 ء ہے۔مرزا صاحب مرحوم کے انتقال کو 28 برس ہو چکے ہیں۔گویا کہ یہ واقعہ 1874ء کا ہے۔اس میں سے 40 نکالیں تو تاریخ پیدائش 1834 ء ثابت ہوتی ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پر یکجائی نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کی پیدائش 1836 ء سے پہلے پہلے کی ہے اس کے بعد یا 1839 ء کسی صورت میں بھی صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔تاریخی شہادتیں کتاب البریہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔” میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا۔اسی طرح آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ صفحہ 543-544 پر بھی آپ یہی فرماتے ہیں۔سواس کے متعلق تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ 1818ء کے قریب راجہ رنجیت سنگھ نے رام گڑھیوں کو زیر کر کے ان کا تمام علاقہ اپنے قبضہ میں کر لیا تھا۔یعنی قادیان رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آ گیا تھا“۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 110 ) اور پنجاب چیفس میں لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی تمام جاگیر پر قابض ہو گیا۔غلام مرتضے کو قادیان واپس بلا لیا اور اس کی جدی جاگیر کا ایک معقول حصہ اسے واپس کر دیا۔اس پر غلام مرتضی اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گیا۔اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات سرانجام دیں اس سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کشمیر کی فتح کے وقت زنجیت سنگھ کی فوج میں شامل تھے۔کشمیر 1819ء میں فتح ہوا۔اس لئے معلوم یہ ہوتا ہے کہ گومرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم قادیان میں واپس آگئے تھے مگر قادیان کے ارد گرد کے گاؤں ابھی تک نہیں ملے تھے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود