مضامین بشیر (جلد 4) — Page 525
مضامین بشیر جلد چهارم 525 علیہ السلام فرماتے ہیں۔رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضی قادیان میں واپس آئے۔اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے 5 گاؤں واپس ملے۔کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنالی تھی۔سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آ گئے تھے اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لدھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا“۔(کتاب البریہ ) پشاور 1823ء میں رنجیت سنگھ کے ماتحت آیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مصائب کا سلسلہ گو ختم ہو گیا تھا مگرا بھی فراخی نہیں شروع ہوئی تھی۔مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کوا کثر فوجی خدمات پر باہر رہنا پڑتا ہوگا اور گھر کا گزارہ جنگی ترشی میں ہوتا ہو گا۔حتی کہ غالباً 1833ء کے قریب انہوں نے کشمیر جانے کا ارادہ کیا جس کی طرف آئینہ کمالات اسلام حصہ عربی صفحہ 543 میں اشارہ کیا گیا ہے اور غالباً 34-1833ء میں رنجیت سنگھ نے اپنے مرنے سے 5 سال پہلے قادیان کے اردگرد کے 5 گاؤں ان کی جدی جاگیر کے انہیں واپس کر دیئے۔اس وقت تک وہ رنجیت سنگھ کی فوج میں نمایاں خدمات بھی کر چکے تھے اور ان کا حق بھی ایک طرح دوبارہ قائم ہو گیا تھا۔پس اس حساب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش 34-1833ء کے قریب ماننی پڑے گی۔مخالفین کی شہادت اب دیکھنا چاہئے کہ آپ کے مخالفین آپ کی عمر کے متعلق کیا کچھ کہتے ہیں۔لیکھرام کا جوحوالہ سید احمد علی صاحب نے درج کیا ہے اس کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش 1836 ءاور 1833 ء پیدائش کے سن نکلتے ہیں۔لیکن میرے نزدیک ان سے بڑھ کر جس مخالف کو علم ہونا چاہئے وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں جن کو بچپن سے ہی آپ سے ملنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ان کے اشاعت السنہ 1893 ء کے حوالہ سے آپ کی پیدائش 1830 ء کے قریب بنتی ہے۔صحیح سن ولادت غرض 1836ء انتہائی حد ہے۔اس کے بعد کا کوئی سن ولادت تجویز نہیں کیا جاسکتا۔بحیثیت مجموعی زیادہ تر میلان 1833 ء اور 1834 ء کی طرف معلوم ہوتا ہے کیونکہ شرف مکالمہ مخاطبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ معین ہیں۔اور یہ واقعی ایک اہم واقعہ ہے جس پر تاریخ پیدائش کی بنیاد رکھی جاسکتی