مضامین بشیر (جلد 4) — Page 517
مضامین بشیر جلد چہارم مجھ سے ناراض ترے صدقے میری جان نہ ہو ( نظم جو بر مقام کوہ ڈلہوزی کہی گئی تھی ) 517 دل یہ کہتا ہے اس در پہ رما دے دھونی نفس کہتا ہے کہ اٹھ مفت میں ہلکان نہ ہو زندگی هیچ انسان کی دنیا میں اگر ہے۔سینہ میں قلب نہ ہو قلب میں ایمان نہ ہو میرے مذہب میں اسلام کا دعوی باطل جب تلک سینہ میں ایمان سے غلیان نہ ہو آدمی وادی ظلمت میں بھٹکتا مر جائے رہنمائی کا اگر عرش سے سامان نہ ہو چھوڑ کر راہ خدا راهِ بُتاں پر مت جا عقل دی ہے اللہ نے تجھے نادان نہ ہو رحم کر ظلم نہ ڈھا آہ غریباں سے ڈر کام وہ کر کہ جسے کر کے پشیمان نہ ہو ہاتھ گر کام میں ہو دل میں ربّ ارباب کوئی مشکل نہیں دنیا میں کہ آسان نہ ہو سر میں ہو جوشِ جنوں دل میں عشق محبوب خوف دوزخ نہ ہو پھر خواہش رضوان نہ ہو اب تو خواہش ہے کہ وہاں جا کے لگائیں ڈیرا دیکھنے کو بھی جہاں صورتِ انسان نہ ہو دل میں اک آگ ہے اور سینہ مراغم سے تپاں وائے قسمت اگر اس درد کا درمان نہ ہو ہوں گنہگار ولے ہوں تو ترا ہی بندہ مجھ سے ناراض ترے صدقے میری جان نہ ہو اخبار الحکم قادیان 28 ستمبر 1920ء) 4 خدا کس طرح کلام کرتا ہے ( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے مندرجہ ذیل مضمون اپنے خاص اسلوب میں رقم فرما کر بھیجا ہے جو گویا سیرت المہدی کی جلد دوم کی ایک روایت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کی ایک خاص شان کا جلوہ نما ہے۔ایڈیٹر الحکام ) مکرمی شیخ صاحب سلمہ۔اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ میں نے اس وقت تک آپ کے یادگار نمبر کے لئے کچھ نہیں لکھا۔اور نہ ہی یہ سوچا ہے کہ کیا لکھنا چاہئے۔لیکن آپ کی طرف سے تقاضا پہنچا ہے کہ جو دینا ہے ابھی بھیج دو۔لہذا آپ کی خواہش کا احترام رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ درج کرتا ہوں۔