مضامین بشیر (جلد 4) — Page 516
مضامین بشیر جلد چهارم کرنا مغرب کو پڑے گا اب سر تسلیم خم 516 آج دل مسرور ہے اپنا، طبیعت شاد ہے مسجد لندن کی رکھی جا چکی بنیاد ہے ہے بناء اس کی خدا کے فضل پر اور رحم پر جو بناء اس کے مقابل پر ہے وہ برباد ہے نعرة الله اکبر اس سے اب ہو گا بلند شرک کے مرکز میں یہ توحید کی بنیاد ہے چشم بد میں کور ہو دست مخالف ٹوٹ جائے دل وہ غارت ہو جو اس کو دیکھ کر ناشاد ہے ہوش میں آ دشمن بدخواہ اپنی فکر کر سر اٹھا کر دیکھ ربّ خلق بالمرصاد ہے اے خدا اب جلد لا وہ دن کہ ہم یہ دیکھ لیں بند طبع مسلم ناشاد پھر آزاد ہے ہائے وہ اسلام وہ مسلم کدھر کو چل بسے نہ وہ شیریں ہی رہی باقی نہ وہ فرہاد ہے دین حق اک صید ہے مقہور تحت دام کفر ہر طرف آواز و شور و غوغائے صیاد ہے اے خد اسلام کی کشتی کو طوفاں سے بچا ہم غریبوں کی تری درگاہ میں فریاد ہے یاس کا منظر ہے لیکن دل ہیں امیدوں سے پر یاد ہے ہم کو ترا وعدہ خدایا یاد ہے رحم فرمایا خدا نے سن کے بندوں کی پکار آ گیا مردِ خدا جو فرد ہے استاد ہے کرنا مغرب کو پڑے گا اب سرتسلیم خم چل رہی مشرق سے باد نصرت و امداد ہے آ گیا مهدی مسیح وقت مامور خدا اب نہ وہ جور و ستم ہی ہے نہ وہ بیداد ہے اب گیا وقت خزاں اور آ گیا وقت بہار باغ احمد میں ہوا پھر سبزه نوزاد ہے ہر طرف پھیلے مبشر خدمت دیں کے لئے خاص انگلستان میں بھی پہنچا ہوا مناد ہے دل ہے حمد وشکر سے لبریز اور سر در سجود جان ہے پُر از مسرت اور طبیعت شاد ہے صد مبارک صد مبارک خادمان دینِ حق مسجد لندن کی رکھی جا چکی بنیاد ہے اب ترانہ ہو چکا روز جزا بھی یاد کر اے بشیر خستہ جاں قول بلی بھی یاد کر اخبار الحکم قادیان 21 ستمبر 1920ء)