مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 515 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 515

مضامین بشیر جلد چهارم اپنا 1 صدائے بشیر 515 غمخوار مجھ کو جان اے دوست میرا کہنا کبھی تو مان اے دوست درد دل ، کہوں گا جو میں کہوں لغو اس کو کبھی نہ جان اے دوست ورلی دنیا سے مت لگا تو دل چند روزہ ہے یہ جہاں اے دوست ނ رکھ تو یاد خدا کہ پیری میں گر خدا کی طرف جھکے گا تو اس سے نکلیں گے بے بہا موتی تجھ کو رکھے گی وہ جوان اے دوست ہ بھی خود ہو گا مہربان اے دوست ایسی اسلام کی ہے کان اے دوست زہر قاتل ہے ایک بدظنی ہو کبھی بھی نہ بدگمان اے دوست خاموش گویا منه میں نہیں زبان اے دوست لگتا نہیں لگان اے دوست گالیاں سن کے ایسا ہو دین سے تو ہوا ہے غافل کیوں اس کر لے جو کچھ کہ ہو سکے تجھ سے تیرے سر پہ ہے امتحان اے دوست دین سے جو تجھے کرے غافل کہنا اس کا بھی نہ مان اے دوست لوٹ لے دین کا خزانہ تو کیونکہ غافل ہے سب جہان اے دوست خود مٹا اپنا تو نشان اے دوست چاہتا ہے تو شادمان اے دوست تجھ کو رکھنا ہے گر نشان اپنا غم اٹھانے پڑیں گے گر رہنا اپنے دل میں جگہ خدا کو دے تاکہ جنت میں ہو مکان اے دوست چاہتا ہے اگر کہ شان بڑھے چھوڑ دے اپنی آن بان اے دوست کھانے پینے میں رہ نہ تو کہ نجات تجھ کو دیں گے نہ قوت و نان اے دوست اللہ اپنا رحم کرے دل میں کر گیا ہے احمد میں کرتا دعا اور ہو تجھ مہربان اے دوست کیا ہے سادہ تیرا بیان اے دوست ہوں بالآخر تیرا جنت میں ہو مکان اے دوست خوراک، رزق (الحکم 7 مئی 1918 ء )