مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 503 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 503

مضامین بشیر جلد چهارم 503 تعریف ہے کہ وہ اس معاملے میں غیر معمولی اسلامی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک جان ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بے نظیر غیرت کا اظہار کیا۔اور ریزولیوشنوں اور احتجاجی نوٹوں سے حکومت کے افسروں اور اخباروں کے ایڈیٹروں کے سامنے اس کثرت سے اپنے دلی دکھ اور غم وغصہ کا اظہار کیا کہ گویا ملک میں احتجاجوں کا ایک سیلاب آگیا۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاء - حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے تقریر وتحریر کے ذریعہ اسلام کی جو عدیم المثال خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں اور دوست اور دشمن اپنے اور بیگانے ان کا لوہا مان چکے اور آپ کو اسلام کا ایک ”فتح نصیب جرنیل قرار دے چکے ہیں۔پس یہ کتنے دکھ اور افسوس کی بات تھی کہ وقت کی مسلمان حکومت نے جلد بازی اور کوتاہ اندیشی سے آپ کی ایک ایسی کتاب کو ضبط کرنے کا فیصلہ کیا جو اسلام کی تائید اور ایک نادان مسیحی کے اعتراضوں کے جواب میں پینسٹھ 65 سال پہلے لکھی گئی تھی اور جسے خود اس وقت کی عیسائی حکومت اپنے پچاس سالہ دور میں وسعت قلب کے ساتھ برداشت کرتی چلی آئی تھی۔بہر حال اگر صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا ہوا نہیں سمجھنا چاہئے اور ہم حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے اپنے اس نا واجب اور غیر منصفانہ فیصلے کو جلدی منسوخ کر کے ہمارے زخمی دلوں پر مرہم کا چھا یہ رکھا ہے۔دعا ہے کہ خدا اسے آئندہ ایسی غلطی سے محفوظ رکھے آمین۔دراصل اگر حکومت غور کرے تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا وجود حکومت کے لئے ایک مقدس تعویذ ہے۔کاش وہ سمجھے!!! ( محرره 31 مئی 1963ء) روزنامه الفضل یکم جون 1963ء) میٹرک کے امتحان میں اعلیٰ نتائج پر خط (جیسا کہ احباب کو علم ہے امسال میٹرک کے امتحان میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کا نتیجہ ہر جہت سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت شاندار رہا۔112 طلباء میں 52 فرسٹ ڈویژن میں اور 44 سیکنڈ ڈویژن میں کامیاب ہوئے۔11 طلباء کو وظائف ملنے کی توقع ہے اور صرف دس طلباء پتھر ڈ ڈویژن میں کامیاب ہوئے۔سرگودھا ڈویژن میں اول آنے والا طالب علم بھی ہمارے ہی سکول کا رہا جس نے 851 نمبر لئے (روز نامہ کوہستان کی یہ اطلاع درست نہیں ہے کہ لائلپور کا ایک لڑکا 831 نمبر لے کر سر گودہا ڈویژن میں اول رہا)