مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 501 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 501

501 مضامین بشیر جلد چهارم جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس غیر اسلامی رجحان سے بچ کر رہیں اور اسلام کی تعلیم کا نمونہ دکھا ئیں۔اس بارہ میں خاص طور پر لاہور اور راولپنڈی اور کراچی اور پشاور کے امراء سے رپورٹ حاصل کی گئی تھی اور ان رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ واقعی ہم میں بعض کالی بھیڑیں موجود ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔اور مجھے خوشی ہے کہ ان شہروں کے امراء نگران بورڈ کی تاکیدی ہدایت کے ماتحت اصلاحی قدم اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس بارہ میں سب سے پہلا ایکشن تو خود مقامی جماعتوں کی طرف سے لیا جانا چاہئے کہ جو احمدی بے پردگی کے مرتکب ہو رہے ہوں ان سے حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے خطبے کی روشنی میں قطع تعلق کر کے بیزاری کا اظہار کیا جائے اور ساتھ ہی مرکز میں بھی اطلاعی رپورٹ بھجوائی جائے۔اگر اس پر بھی ایسے لوگوں کی اصلاح نہ ہو تو پھر نظارت امور عامہ اور نظارت اصلاح وارشادر میں ان کے متعلق رپورٹ کی جائے تاکہ ان کے خلاف تعزیری ایکشن لیا جا سکے۔یہ بات مدنظر رہے کہ اس معاملے میں کسی کا لحاظ نہیں ہونا چاہئے بلکہ چھوٹوں اور بڑوں سب کے متعلق یہی طریق اختیار کیا جائے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بزرگ نبی حضرت نوح کو ان کے بیٹے کے ایک گناہ پر سختی سے توجہ فرمائی تھی اور کوئی لحاظ نہیں کیا۔پھر اور کوئی شخص کس حساب میں ہے؟ البتہ بیرونی ممالک کے باشندوں کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کے موجودہ خاص حالات کے ما تحت فی الحال رعایت رکھی ہے مگر باقی سب چھوٹے اور بڑے اور خورد و کلاں کے متعلق سختی سے نگرانی ہونی چاہئے کہ وہ اسلامی پردے کوملحوظ رکھیں۔ورنہ اولاً ان کے متعلق مقامی طور پر قطع تعلق اور بیزاری کا اظہار ہونا چاہئے اور بعد میں تعزیری ایکشن کے لئے نظارت امور عامہ اور نظارت اصلاح وارشاد میں رپورٹ ہونی چاہئے۔رپورٹ نہ کرنے والے امراء بھی مجرم سمجھے جائیں گے۔( محررہ 23 مئی 1963ء) روزنامه الفضل 26 مئی اور 7 جون 1963ء)۔۔۔۔۔۔۔۔