مضامین بشیر (جلد 4) — Page 488
مضامین بشیر جلد چهارم 488 شاخیں بن کر رہیں اور ہمارے ذریعہ رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام نامی اور اسماء گرامی چارا کناف عالم میں فتح و ظفر کے نقاروں کے ساتھ گونجیں اور خدا کا یہ کلام اپنی کامل شان کے ساتھ پورا ہو کہ۔ھ پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد امِين يَا رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِينَ محرره 28 دسمبر 1962ء)۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل 6 فروری 1963ء) ایک انتہائی اضطراب کے وقت کی دعا ”اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں آتا ہے۔وہ خدا تعالے کے ایک نبی اور رسول تھے مگر ایک ابتلاء کے وقت انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا تھا اور وہ تین دن اور تین رات دنیا سے بالکل کٹ کر اس مچھلی کے پیٹ میں عملاً زندہ درگور رہے اور ان کے لئے یہ ایک انتہائی اضطراب کا وقت تھا جبکہ حقیقتا ان پر دنیا اندھیر ہو گئی تھی۔اس وقت خدا کے اس صابر اور تائب بندے نے جو انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں دعا کی۔اس کا قرآن مجید ان الفاظ میں ذکر کرتا ہے کہ۔لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانبياء : 88) یعنی اے میرے آسمانی آقا تو تو ہر نقص سے پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے۔مجھ سے ہی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔تو مجھے معاف فرما اور اس تکلیف سے مجھے نجات دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس درد بھری انتہائی اضطراب کی دعا کو سنا اور انہیں اس تکلیف سے نجات بخشی۔میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ گھبراہٹ اور اضطراب کے وقتوں کے لئے یہ ایک عجیب وغریب دعا ہے جو گھبراہٹ کو دور کرنے اور خدا کی رحمت کو جذب کرنے کی غیر معمولی تاثیر رکھتی ہے۔ہمارے کئی عزیز وں اور دوستوں نے اس دعا کے متعلق خواب دیکھی ہے کہ گھبراہٹ اور اضطراب کے اوقات میں اس کا بہت ورد کرنا چاہئے۔مثلاً ایک دفعہ ام مظفر احمد کو کسی معاملہ میں بہت گھبراہٹ تھی اور وہ اسی گھبراہٹ میں