مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 484 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 484

مضامین بشیر جلد چہارم 484 سے زیادہ تعصب رکھتے تھے اور حسد سے جلے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے دلائل اور زور دار علم کلام کے سامنے عاجز آ کر حضور کی خدمت میں یہ چیلنج کیا کہ اگر آپ واقعی خدا کی طرف سے ہیں تو ہم ایک خط کے اندر کچھ عبارت لکھ کر اور اسے ایک سر بمہر لفافے میں بند کر کے آپ کے سامنے میز پر رکھ دیتے ہیں اگر آپ بچے ہیں تو اپنی روحانی طاقت کے ذریعہ اس لفافہ کے اندر کا مضمون بتا دیں۔ان کا خیال ہوگا کہ غالبا حضرت مسیح موعود اس عجیب و غریب چیلنج کو ٹال دیں گے اور انہیں حضور کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کا موقع مل جائے گا۔مگر حضرت مسیح موعود نے اس چیلنج کے ملتے ہی غیرت کے ساتھ فرمایا کہ۔میں اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں اور اس مقابلے کے لئے تیار ہوں کہ دعا اور روحانی توجہ کے ذریعہ آپ کے بند خط کا مضمون بتا دوں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے بعد آپ لوگوں کو مسلمان ہونا ہوگا“ (اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ 159 ملخص) حضرت مسیح موعود کے اس تحدی والے جواب کا عیسائیوں پر ایسا رعب پڑا کہ وہ ڈر کر بالکل خاموش ہو گئے۔اور خود اپنی طرف سے چیلنج دینے کے بعد حضرت مسیح موعود کے سامنے آنے کی جرأت نہ کی اور مسیحیت کو شکست ہوئی اور اسلام کا بول بالا ہوا۔یہ درست ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے۔خدا کے رسولوں کو از خود غیب کا علم حاصل نہیں ہوتا ( سورہ انعام آیت 109 ) مگر یہ بھی درست ہے اور خدا کی ازلی سنت میں داخل ہے کہ وہ اکثر اپنی مشیت اور اپنے مصالح کے ماتحت نبیوں پر غیب کی خبر میں ظاہر فرما تا رہتا ہے تا کہ خدائی دین کو خدائی نشانوں کے ذریعہ تقویت حاصل ہو۔یا درکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کے اس پینج کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے جو یہ فرمایا تھا کہ اگر میں بند خط کا مضمون بتا دوں تو پھر آپ لوگوں کو مسلمان ہونا ہوگا تو یہ کوئی رسمی جواب اور کوئی معمولی شرط نہیں تھی بلکہ حضرت مسیح موعود کی صداقت اور اسلام کی سچائی کی ایک زبردست دلیل تھی۔خدا کے مامور کوئی فضول اور عبث کام نہیں کیا کرتے اور نہ وہ نعوذ باللہ دنیا کے مداریوں کی طرح لوگوں کو تماشہ دکھاتے پھرتے ہیں بلکہ ان کی غرض و غایت صرف حق کی تائید کرنا اور صداقت کی طرف لوگوں کو دعوت دینا ہوتی ہے۔اور وہ صرف وہی کام کرتے اور صرف اسی جگہ ہاتھ ڈالتے ہیں جہاں انہیں اپنے خدا داد مشن کی تائید اور صداقت کی تصدیق کا کوئی سنجیدہ پہلو نظر آئے۔کاش بٹالہ کے عیسائی اس موقع پر مردانہ جرات سے کام لے کر آگے آتے اور خدا اسلام کی تائید میں کوئی چمکتا ہو انشان ظاہر کرتا جس سے دنیا کی روحانیت کو فائدہ پہنچتا اور حق کا بول بالا ہوتا۔حضرت مسیح موعود اپنی ایک نظم میں عیسائیوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔