مضامین بشیر (جلد 4) — Page 479
مضامین بشیر جلد چہارم 479 چنانچہ جب تک وہ زندہ رہے اپنی اس غیر معمولی ترقی کی ساری رقم حضور کی خدمت میں اسلام کی تبلیغ کے لئے بھجواتے رہے اور اس کے علاوہ اپنا سابقہ چندہ پچیس روپے ماہوار بھی بدستور جاری رکھا اور خود نہایت قلیل رقم پر گزارہ کرتے رہے اور قربانی کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا جس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔( بدر 14 جنوری 1909ء والفضل یکم مئی 1962ء) پھر ایک گاؤں کے رہنے والے بابا کریم بخش صاحب ہوتے تھے۔وہ زیادہ تعلیم یافتہ تو نہیں تھے مگر تو بے شمار دوسرے احمدیوں کی طرح حضرت مسیح موعود کی محبت اور اطاعت میں گداز تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود قادیان کی مسجد میں کچھ وعظ فرما رہے تھے اور پیچھے آنے والے لوگ پچھلی صفوں میں کھڑے ہو کر سن رہے تھے اور ان سے بعد میں آنے والوں کے لئے رستہ رُکا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود نے انتظام کی سہولت کی غرض سے ان لوگوں کو آواز دے کر فرمایا کہ ” بیٹھ جاؤ اس وقت بابا کریم بخش صاحب مسجد کی گلی میں سے ہو کر مسجد کی طرف آرہے تھے۔ان کے کانوں میں اپنے امام کی یہ آواز پہنچی تو وہیں رستہ میں ہی زمین پر بیٹھ گئے اور پھر آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے مسجد میں پہنچے تا کہ امام کے حکم کی نافرمانی نہ ہو۔وہ بیان کیا کرتے تھے کہ میں نے خیال کیا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو خدا کو اس بات کا کیا جواب دوں گا کہ اس کے مسیح کی آواز میرے کانوں میں پہنچی اور میں نے اس پر عمل نہ کیا۔(سیرت المہدی روایت نمبر 741) پھر ایک منشی عبدالعزیز صاحب دیہاتی پٹواری تھے یہ بھی پرانے صحابہ میں سے تھے اور بڑے نیک اور قربانی کرنے والے خدمت گزار انسان تھے۔انہوں نے مجھ سے خود بیان کیا کہ ایک دفعہ جب ایک مقدمہ کے تعلق میں حضرت مسیح موعود گورداسپور تشریف لے گئے تو اس وقت حضور بیمار تھے اور حضور کو پچپش کی سخت تکلیف تھی اور حضور بار بار قضائے حاجت کے لئے جاتے تھے۔میں حضور کے قریب ہی ٹھہر گیا اور جب بھی حضور رفع حاجت کے لئے اٹھتے تھے میں فوراً حضور کی خدمت میں پانی کا لوٹا حاضر کر دیتا تھا۔حضور مجھے بار بار فرماتے تھے کہ میاں عبدالعزیز آپ سو جائیں اگر ضرورت ہوئی تو میں آپ کو جنگالوں گا مگر میں ساری رات مسلسل جاگتا رہا تا کہ ایسا نہ ہو کہ حضور مجھے کسی وقت آواز دیں اور میں نیند کی حالت میں حضور کی آواز کو نہ سن سکوں اور حضور کو تکلیف ہو۔صبح اٹھ کر حضرت مسیح موعود نے مجلس میں خوش ہو کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا فضل ہے کہ مسیح ناصری ایک شدید ابتلا کے وقت میں لوگوں سے بار بار کہتا تھا کہ ” جاگتے رہو اور دعا کرو مگر وہ سو جاتے تھے (متی باب 26 آیت 39 تا 46 ) مگر ہم ایک عام بیماری کی حالت میں منشی عبدالعزیز صاحب