مضامین بشیر (جلد 4) — Page 476
مضامین بشیر جلد چهارم +21 476 محبت محبت کو کھینچتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا اور اس کے محبوب حضرت افضل الرسل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) سے ایسی شدید محبت کی جو حقیقتا بے مثال تھی اور پھر ان دو محبتوں کے نتیجہ میں آپ نے مخلوق کی ہمدردی اور شفقت کو بھی انتہا تک پہنچادیا۔اس سہ گونہ محبت کے نتیجہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مخلص جماعت عطا فرمائی جو آپ کے ساتھ غیر معمولی اخلاص اور عقیدت کے جذبات رکھتی تھی اور اپنے ایمان کی مضبوطی اور اپنے جذبہ قربانی اور معیار اطاعت میں خدا کے فضل سے صحابہ کے رنگ میں رنگین تھی اور مخالفوں کی انتہائی مخالفت کے باوجود یہ الہی جماعت برابر ترقی کرتی چلی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے ہر رنگ میں بارآور اور برومند کیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ کے یہ حلقہ بگوش فدائی چار لاکھ کی تعداد کو پہنچ چکے تھے اور ان میں سے ہر ایک حضرت مسیح موعوڈ پر اس طرح جان دیتا تھا جس طرح کہ ایک پروانہ شمع کے گردگھومتا ہوا جان دیتا ہے اور یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح ناصری کی اُس قلیل سی جماعت کے مقابلہ پر جو انہیں اپنی زندگی کے ایام میں میسر آئی مسی محمد دمی کی اس کثیر التعداد جماعت کا مقام محبت اور اخلاص اور ایمان اور جذبہ قربانی کتنا بلند تھا ! میں اس جگہ صرف مثال کے طور پر پانچ احمدیوں کا ذکر کرتا ہوں جو جماعت احمدیہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے تھے اور یقیناً وہ سب کے سب ایسے نہیں تھے جو جماعت کے چوٹی کے ممبر سمجھے جاتے ہوں بلکہ ان میں سے بعض تو ایسے عام احمدیوں میں سے تھے جنہیں شاید جماعت کے اکثر دوست جانتے بھی نہیں۔ان میں سے اول نمبر پر حضرت مولوی نورالدین صاحب تھے جو غیر منقسم ہندوستان کے مشہور ترین علماء اور قابل ترین اطباء میں شمار کئے جاتے تھے۔انہوں نے بیعت کا سلسلہ شروع ہوتے ہی پہلے نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور پھر حضور پر ایسے گرویدہ ہوئے کہ اپنا وطن چھوڑ کر قادیان میں ہی دھونی رما کر بیٹھ گئے۔اور حضرت مسیح موعود کی وفات پر جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ بنے۔ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا معیار ایسا شاندار اور ایسا بلند تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ ان کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ میرے پیچھے اس طرح چلتے ہیں جس طرح کہ انسان کے ہاتھ کی نبض اس کے دل کی حرکت کے پیچھے چلتی ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے دتی سے حضرت مولوی نورالدین صاحب کوکسی