مضامین بشیر (جلد 4) — Page 472
مضامین بشیر جلد چہارم 472 چھو جانے سے غیر معمولی نتائج پیدا ہو جاتے ہیں مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ طاقت کسی نبی یا رسول کومستقل طور پر حاصل نہیں ہوتی بلکہ صرف استثنائی طور پر وقتی صورت میں خدا کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔لیکن چونکہ ایسے اقتداری معجزات کی مفصل تشریح میری گزشتہ سال کی تقریر میں گزر چکی ہے ( در مکنون صفحہ 37 تا 43) اس لئے اس جگہ اس کے متعلق زیادہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔یہاں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے صرف ایک دو واقعات ایسے بیان کرتا ہوں کہ جب گھر میں کھانا تھوڑا تھا اور مہمان بہت زیادہ آگئے اور منتظمین کوفکر پیدا ہوا تو حضرت مسیح موعود کے دم کی برکت سے یہ تھوڑا سا کھانا ہی کثیر التعداد مہمانوں کے لئے کافی ہو گیا۔میاں عبداللہ صاحب سنوری نے جو حضرت مسیح موعود کے بہت مخلص اور بڑے قدیم صحابی تھے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی مگر عین اس وقت جبکہ کھانا کھانے کا وقت آیا زیادہ مہمان آگئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی“۔اس پر حضرت مسیح موعود نے حضرت بیوی جی کو اندر کہلا بھیجا کہ اور مہمان آ گئے ہیں کھانا زیادہ بھجواؤ“۔اس پیغام کے جانے پر حضرت اماں جان نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود کو اندر بلوایا اور کہا کہ کھانا تو بہت تھوڑا ہے اور صرف ان چند مہمانوں کے مطابق پکایا گیا تھا جن کے متعلق آپ نے فرمایا تھا۔اب کیا کیا جائے۔حضرت مسیح موعود نے بڑے اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ۔گھبراؤ نہیں اور کھانے کا برتن میرے پاس لے آؤ پھر حضرت مسیح موعود نے اس برتن پر ایک رومال ڈھانک کر دیا اور رومال کے نیچے سے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں چاولوں کے اندر داخل کر دیں اور پھر یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لے گئے کہ۔اب تم کھانا نکالو خدا برکت دے گا“ میاں عبداللہ صاحب روایت کرتے ہیں کہ یہ کھانا سب نے کھایا اور سب سیر ہو گئے اور کچھ بیچ بھی گیا۔سیرت المہدی حصہ اول روایت 144) 19۔میں نے جب میاں عبداللہ صاحب کی یہ دلچسپ روایت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے پاس بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ ایسے واقعات حضرت مسیح موعود کی برکت سے ہمارے گھر میں بارہا ہوئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک لطیف واقعہ مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ ال