مضامین بشیر (جلد 4) — Page 26
مضامین بشیر جلد چهارم 26 سمندر کی طغیانی لہر میں کھیلاتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشق رسول کے متعلق حضرت مسیح موعود کے قلب صافی میں موجزن تھیں۔حج کی کس بچے مسلمان کی خواہش نہیں مگر ذرا اس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاک (فداہ نفسی) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے۔اور وہاں اس کی آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بند ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی عشق کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی آل و اولاد اور آپ کے صحابہ کے ساتھ بھی بے پناہ محبت تھی۔چنانچہ ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا اور حضرت مسیح موعود اپنے باغ میں ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے آپ نے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلمہا اور ہمارے بھائی مبارک احمد مرحوم کو جو سب بہن بھائیوں سے چھوٹے تھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا: آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں“ پھر آپ نے بڑے درد ناک انداز میں حضرت امام حسنؓ کی شہادت کے واقعات سنائے۔آپ یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اور آپ اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔اس دردناک کہانی کو ختم کرنے کے بعد آپ نے بڑے کرب کے ساتھ فرمایا یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریم کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑ لیا۔اس وقت آپ پر عجیب کیفیت طاری تھی اور اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ کی المناک شہادت کے تصور سے آپ کا دل بہت بے چین ہورہا تھا۔اور یہ سب کچھ رسول پاک کے عشق کی وجہ سے تھا۔( روایات نواب مبار که بیگم صاحبه ) چنانچہ اپنی ایک نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے فرماتے ہیں: ے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے تیری الفت سے ہے مامور میرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 225) ی اسی عشق کا نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہر وہ منظوم اور منشور کلام جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں رقم فرمایا ایسے شہد کے چھتے کا رنگ اختیار کر گیا تھا جس میں شہد کی کثرت کی وجہ سے عسل مصفی کے قطرے گرنے شروع ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں اور کس محبانہ انداز میں