مضامین بشیر (جلد 4) — Page 456
مضامین بشیر جلد چهارم لگے ہیں تو حضور نے بڑی نرمی کے ساتھ مسکراتے ہوئے فرمایا۔456 شاہ صاحب! جانے دیں اور اسے کچھ نہ کہیں یہ بے چارہ سمجھتا ہے کہ ہم نے اس کا (مہدی والا ) عہدہ سنبھال لیا ہے ( حیات احمد مصنفہ عرفانی صاحب جلد سوم صفحہ 210) شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد جب تک حضرت مسیح موعود اپنی قیام گاہ تک نہیں پہنچ گئے حضور بار بار پیچھے کی طرف منہ کر کے دیکھتے جاتے تھے تا کہ کوئی شخص غصہ میں آ کر اسے مارنہ بیٹھے اور تاکید فرماتے جاتے تھے کہ اسے کچھ نہ کہا جائے۔یہ وہی وسیع عفو و رحمت اور خاص جمالی شان ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعوڈ اپنے ایک شعر میں بیان فرماتے ہیں کہ۔ے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے لیکن خدائے غیور کی غیرت کا نظارہ دیکھو کہ حضرت مسیح موعود نے تو اس وحشیانہ حملہ کرنے والے کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ عفو و رحمت کا سلوک فرمایا مگر خدا نے اپنے محبوب مسیح کا انتقام لے لیا اور انتقام بھی ایسے رنگ میں لیا جو اُسی کے شایانِ شان ہے چنانچہ عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد اس حملہ کرنے والے شخص کا حقیقی بھائی جس کا نام پیغمبر اسنگھ تھا احمدی ہو گیا اور اخلاص میں اتنا ترقی کر گیا کہ اس نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر نہ صرف اپنے بھائی کی طرف سے معافی مانگی بلکہ اُسی شہر لاہور کی ایک مجلس میں جہاں اس کے بھائی نے خدا کے مقدس مامور کی گستاخی کی تھی حضور پر محبت اور عقیدت کے ساتھ پھول برسائے۔اس شخص نے اپنا نام پیغمبر اسنگھ اس لئے رکھا ہوا تھا کہ احمدی ہونے سے پہلے اس کا دعوی تھا کہ وہ سکھوں کا گرویا اوتار ہے مگر جب خدا تعالیٰ نے اس پر حقیقت کھول دی تو اس نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر حضور کے قدموں میں اپنے دل کی راحت پائی۔( حیات احمد جلد سوم صفحہ 210) یہ پیغمبر اسنگھ ایک بھاری بھر کم جسم کا انسان تھا اور احمدی ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود کے ساتھ بڑا اخلاص رکھتا تھا اور اکثر اوقات حضور کی محبت اور تعریف میں شعرا تا پھرتا تھا اور کبھی کبھی تبلیغ کی غرض سے حضرت بابا نانک صاحب کے چولے کی طرح کا ایک چولہ بنا کر بھی پہنا کرتا تھا۔یہ اسی قسم کا لطیف خدائی انتقام ہے جیسا کہ خدا نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ابو جہل سے لیا تھا کہ اس کی موت کے