مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 451 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 451

مضامین بشیر جلد چهارم 451 کی جمالی صفات کی غیر معمولی شان کے ظہور میں گزرا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حضرت مسیح موعود کے بعض قریبی رشتہ داروں نے بھی آپ کی مخالفت کی۔آپ کی بستی والوں نے بھی مخالفت کی۔شہروں کے باشندوں نے بھی مخالفت کی۔دیہات کے رہنے والوں نے بھی مخالفت کی۔امیروں نے بھی مخالفت کی۔غریبوں نے بھی مخالفت کی۔مولویوں نے بھی مخالفت کی اور انگریزی خوانوں نے بھی مخالفت کی۔پھر مسلمانوں نے بھی مخالفت کی اور عیسائیوں نے بھی مخالفت کی اور ہندوؤں نے بھی مخالفت کی اور آزاد خیال لوگوں نے بھی مخالفت کی اور ہر طبقہ اور ہر ملت نے مخالفت کے ناپاک خون میں اپنے ہاتھ رنگے۔لیکن ہر مخالفت کے وقت آپ کی جمالی صفات زیادہ آب و تاب کے ساتھ چمکیں اور دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ چودھویں رات کا روحانی چاند جس نے عرب کے سراج منیر سے نور حاصل کیا تھا ایسا نہیں کہ اُس کی روشنی کسی عارضی سایہ سے متاثر ہو کر مدھم پڑ جائے چنانچہ آپ آہستہ آہستہ ہر طبقہ اور ہر فرقہ اور ہر مکتب خیال میں سے سعید الفطرت لوگوں کو کھینچتے چلے گئے حتی کہ آپ کی وفات کے وقت چار لاکھ فدائی آپ کے روحانی حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر آپ کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو چکے تھے۔چونکہ ہر خوبی اور ہر حسن کا منبع خدا کی ذات والا صفات ہے اس لئے جمالی صفات کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کے حسن و جمال کی مثال دیتے ہوئے اپنے ایک لطیف شعر میں فرماتے ہیں۔چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا (سرمه چشم آرید) یعنی چودھویں کے چاند کے حسن اور دلکشی اور دلربائی اور ٹھنڈک اور اس کی مسحور کر دینے والی تاثیر کو دیکھ کر میں کل رات بالکل بے چین ہو گیا کیونکہ اُس میں میرے آسمانی معشوق اور خالق فطرت کے حسن و جمال کی کچھ کچھ جھلک نظر آتی تھی۔اسی نظم میں آگے چل کر آپ خدا کے عشق میں متوالے ہو کر فرماتے ہیں۔ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا