مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 452 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 452

452 6۔مضامین بشیر جلد چهارم حق یہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کے حسن و جمال کا منبع صرف اور صرف خدا کی ذاتِ والا صفات ہے۔وہی دنیا کی چیزوں کو جمال کی دلکشی عطا کرتا ہے اور وہی ہے جو اُن کو جلال کی شان و شوکت سے زینت بخشتا ہے۔ایک میں سورج کی روشنی کی طرح آنکھوں کو خیرہ کرنے والی تیزی ہے جس کی حدت اور رعب کی وجہ سے کسی کی مجال نہیں کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔اور دوسرے میں چاند کی سی ٹھنڈک اور دلر بائی ہے جو دیکھنے والے کو مسحور کر کے رکھ دیتی ہے۔اور خدا کی بار یک در بار یک حکمت نے تقاضا کیا کہ اپنے رسولوں اور نبیوں میں بھی اسی جلال و جمال کا دور چلائے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت موسی اور حضرت عیسی ایک ہی سلسلہ کے نبی تھے اور ایک ہی شریعت کے تابع تھے مگر دونوں کے زمانوں اور ان زمانوں کے الگ الگ حالات نے تقاضا کیا کہ حضرت موسی کو نئی شریعت کے ساتھ جلالی شان میں بھجوایا جائے اور حضرت عیسی کو جمالی شان میں موسوی شریعت کی خدمت اور اشاعت کے لئے مبعوث کیا جائے۔حضرت عیسی نے اپنی اس تابع حیثیت کو خود بھی انجیل میں برملاطور پر تسلیم کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں (یعنی جب تک نئی روحانی زمین اور نیا روحانی آسمان پیدا نہ ہو جائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنی شریعت کے ذریعہ پیدا ہو گیا ) ایک نقطہ یا ایک شوشہ تو رات سے ہرگز نہ ملے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔“ (متی باب 5 آیت 17 و 18 ) جلال و جمال کا یہی لطیف دور محمدی سلسلہ میں بھی چلتا ہے۔چنانچہ ہمارے آقا حضرت سرور کائنات خاتم النبین صلے اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) جلالی شان میں ظاہر ہوئے جن کے نور نے آسمانی بجلی کی چمک کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے سارے عرب بلکہ اس وقت کی ساری معلوم دنیا کو اپنی ضیا پاش کرنوں سے اس طرح منور کر دیا کہ اقوامِ عالم کی آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔مگر آپ کے خادم اور ظلِ کامل مسیح محمدی بانی سلسلہ احمدیہ نے پہلی رات کے چاند کی طرح اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی کرنوں کے ساتھ طلوع کیا اور اب آہستہ آہستہ بدر کامل بنتے ہوئے دنیا کے کناروں تک دیکھنے والوں کی آنکھوں پر جادو کرتا چلا جارہا ہے۔الہی سلسلوں میں جلال و جمال کا نظام خدا تعالیٰ کی عجیب و غریب حکمت پر مبنی ہے۔جب خدا نے کسی نئی شریعت کے نزول کے ذریعہ