مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 447 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 447

مضامین بشیر جلد چہارم 447 آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے چودہ سو سال بعد عوام کی توقع کے خلاف آسمان سے نازل ہونے کی بجائے زمین سے ظاہر ہوئے۔اور جس طرح حضرت مسیح ناصری نے امن کے ماحول میں جمالی رنگ میں اپنے دین کی خدمت کی۔اسی طرح مقدر تھا کہ مسیح محمدی بھی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں رہتے ہوئے جمالی رنگ میں جنگ وجدال کے بغیر اسلام کی خدمت کرے گا اور اپنے قولی اور قلمی جہاد اور روحانی نشانوں کے ذریعہ دنیا پر ثابت کر دے گا کہ اسلام ایسا پیارا اور ایسا دکش اور ایسا مدل مذہب ہے کہ اس کی اشاعت کے لئے ہرگز ہرگز کسی جبر و تشدد کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمد یہ اپنی بعثت کی غرض و غایت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں۔خدا نے اس رسول کو یعنی کامل مجدد کو اس لئے بھیجا ہے کہ تا خدا اس زمانہ میں یہ ثابت کر کے دکھلا دے کہ اسلام کے مقابل پر سب دین اور تمام تعلیمیں بیچ ہیں۔اور اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو تمام دینوں پر ہر ایک برکت اور دقیقہ معرفت اور آسمانی نشانوں میں غالب ہے۔یہ خدا کا ارادہ ہے کہ اس رسول کے ہاتھ پر ہر ایک طرح پر اسلام کی چمک دکھلاوے۔کون ہے جو خدا کے ارادوں کو بدل سکے؟ خدا نے مسلمانوں کو اوران کے دین کو اس زمانہ میں مظلوم پا یا اور وہ آیا ہے کہ تا ان (کمزور ) لوگوں اور ان کے دین کی مدد کرے۔۔۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اپنی قوت اور امنگ کے ساتھ زمین پر چل یعنی لوگوں پر ظاہر ہو کہ تیرا وقت آ گیا ہے اور تیرے وجود سے مسلمانوں کا قدم ایک محکم اور بلند مینار پر جاپڑا۔محمدی غالب ہو گئے۔وہی محمد جو پاک اور برگزیدہ اور نبیوں کا سردار ہے۔خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مراد میں تجھے دے گا۔وہ (خدا) جو فوجوں کا مالک ہے وہ اس طرف توجہ کرے گا یعنی آسمان سے تیری بڑی مدد کی جائے گی“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفح 266-267) 4 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پر زور علم کلام اور زبر دست خدائی نشانات اور روحانی تعلیم و تلقین کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر اخَرِينَ مِنْهُمْ کی جماعت قائم کی اور آپ کی اس جماعت نے خدا کے فضل سے اپنی غیر معمولی جد و جہد اور اپنی پر امن تبلیغ اور اپنے وسیع لٹریچر اور اپنی بے نظیر مالی قربانی کے ذریعہ دنیا میں اسلام کی عالمگیر تبلیغ کا عظیم الشان نظام قائم کر رکھا ہے۔اور باوجو داس کے کہ جماعت ابھی تک اپنی تعداد اور اپنی مالی طاقت اور اپنے دیگر ذرائع کے لحاظ سے بے حد کمزور ہے اور دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ پر گویا آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اس کے مبلغ دنیا کے دور دراز ممالک