مضامین بشیر (جلد 4) — Page 443
443 مضامین بشیر جلد چهارم مجھے اس سال پھر ذکر حبیب یعنی حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے خاص خاص حالات اور نشانات اور اخلاق فاضلہ کے مضمون پر تقریر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔اس سے قبل اسی مضمون پر خدا کے فضل سے میری تین تقریریں ہو چکی ہیں۔پہلی تقریر 1959ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی جو سیرت طیبہ کے نام سے چھپ چکی ہے اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔اس تقریر کا مرکزی نقط محبت الہی اور عشق رسول تھا۔خدا کے فضل سے یہ تقریر جماعت کے دوستوں اور غیر از جماعت اصحاب میں یکساں مقبول ہوئی کیونکہ اس کے لفظ لفظ میں حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی عاشقی شان ہویدا ہے۔دوسری تقریر 1960ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی تھی جو در منشور کے نام سے چھپ چکی ہے اور بہت دلچسپ اور دلکش روایات اور بعض نئی تحقیقاتوں پر مشتمل ہے اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہوکر بیرونی ممالک میں پہنچ چکا ہے۔یہ تقریر بھی خدا کے فضل سے پہلی تقریر کی طرح بہت مقبول ہوئی اور اپنوں اور بیگانوں دونوں نے اسے پسند کیا۔تیسری تقریر 1961ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی تھی جو در مکنون کے نام سے چھپی ہے اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ انگریزی ترجمہ انشاء اللہ بہت جلد رسالہ کی صورت میں شائع ہو جائے گا۔اس تقریر میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود کے معجزات اور حضور کے ہاتھ پر غلبہ اسلام اور دعاؤں کی قبولیت کا ذکر ہے اور الْحَمْدُ لِلهِ کہ یہ تقریر بھی خدا کے فضل سے مقبول ہوئی اور میں امید کرتا ہوں کہ میرا آسمانی آقا مجھے ان تقریروں کے ثواب سے نوازے گا۔اور جماعت کے لئے بھی انہیں برکت و رحمت کا موجب بنائے گا۔موجودہ تقریر اس سلسلہ کی چوتھی تقریر ہے۔میں نے اس تقریر کا نام آئینہ جمال رکھا ہے کیونکہ میرا ارادہ ہے کہ اس میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی جمالی شان اور اس کے مختلف پہلوؤں کے متعلق کچھ بیان کروں۔وَمَا تَوْفِيقِى إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيمِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ 1 كم جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کا مرکزی نقطہ مہدویت اور مسیحیت کے دعوی کے ارد گرد گھومتا ہے۔آپ ( نام: مرزا غلام احمد ولادت فروری 1835 ء وفات مئی 1908ء) نے خدا سے الہام پا کر دعویٰ کیا کہ اسلام میں جس مہدی کے ظہور کا آخری زمانہ میں وعدہ دیا گیا تھا وہ خدا کے فضل سے میں ہی ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کرے گا۔اور دنیا میں اسلام کا سورج پھر اُسی آب و تاب کے ساتھ چمکے گا جیسا کہ وہ اپنے ابتدائی دور میں چمک چکا