مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 428 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 428

مضامین بشیر جلد چهارم 428 الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ۔یعنی خدا نے قلم کے ذریعے انسان کی علمی ترقی کا دروازہ کھولا ہے۔اور قلم کا ذریعہ ایسا ہے جس سے انسان کو ایسے ایسے عجیب و غریب علوم سے شناسائی ہوتی ہے جو وہ دوسری طرح نہیں جان سکتا۔تقریر سنے والا تو صرف منہ درمنہ بات سن کر فیض حاصل کرتا ہے مگر قلم کا لکھا ہوا دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے اور ہمیشہ کے لئے علم کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس بے شک تقریروں کی بھی مشق کرو اور خوب کرو کیونکہ یہ بھی ایک زبر دست انسانی جوہر ہے مگر میں کہوں گا کہ قلم کی طرف زیادہ توجہ دو کیونکہ قلم کالکھا ہوا ایسی سیاہی سے لکھا جاتا ہے جو کبھی نہیں ملتی۔اور اس میں ایسی وسعت اور ایسی طاقت ہوتی ہے جس کے سامنے تلوار کی ضرب ماند پڑ جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ۔بع سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے یہ بالکل صحیح اور درست ہے کہ اچھے قلم کے مقابلہ پر سیف ٹوٹ جاتی ہے مگر قلم کے اثرات کو سیف مٹانے کی طاقت نہیں رکھتی۔پس انصار اللہ کو زیادہ سے زیادہ اپنے قلمی جو ہر کوترقی دینے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اس وقت خدا کے فضل سے اردو اور عربی اور انگریزی زبانوں میں ہمارے کافی اخبارات ورسائل موجود ہیں اور بعض دوسری زبانوں میں بھی ہیں۔پس ان اخبارات اور رسائل کے اوراق میں اپنے فلموں کو جنبش دو تا کہ اسلام کی نصرت میں آسمان پر جنبش پیدا ہو اور دنیا جلد تر وہ دن دیکھے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا بول بالا ہو۔مضمون لکھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی طریقہ تھا اور میں نے بھی حضوڑ کی اتباع میں یہی سیکھا ہے کہ سب سے پہلے مضمون کا ڈھانچہ سوچ کر اس کو نوٹوں کی صورت میں مرتب کر لیا جائے۔اور پھر دعا کرتے ہوئے ان نوٹوں کی روشنی میں مضمون لکھا جائے۔مگر میں نے دیکھا ہے اور یہ خدائی نصرت کا ایک عجیب رنگ ہے کہ لکھے ہوئے نوٹوں کی بناء پر صرف پچاس فیصدی کے قریب ہی مضمون لکھا جاتا ہے باقی نصف مضمون یا کم و بیش مضمون لکھنے کے دوران میں غیبی نصرت کے رنگ میں خدا کی طرف سے دل پر نازل ہوتا ہے۔اور یہی غیبی نصرت مضمون کی اصل جان ہوتی ہے۔پس ہمارے انصار دوست ضرور مضمون نویسی کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔اردو میں بھی لکھیں ، عربی میں بھی لکھیں اور انگریزی میں بھی لکھیں۔اپنے آقا رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت بھی ساری دنیا اور ساری قوموں کے لئے ہے۔پس ہمارے لٹریچر میں بھی ساری زبانوں کی طرف توجہ ہونی چاہئے اور انشاء اللہ آہستہ آہستہ ضرور ایسا ہو جائے گا۔