مضامین بشیر (جلد 4) — Page 423
مضامین بشیر جلد چهارم 423 کہ انہیں فرشتے دھکیل کر دوسری طرف لے جا رہے ہوں گے۔اس پر میں فکرمند ہو کر یہ کہتا ہوا ان کی طرف لپکوں گا کہ اَصْحَابِی - أَصْحَابِی۔یعنی یہ تو میرے صحابہ نہیں۔یہ تو میرے صحابہ نہیں۔فرشتے کہیں گے یا رسول اللہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے دنیا میں کیا کیا۔پس مقام خوف ہے اور سخت مقام خوف ہے۔موجودہ فتنوں کے وقت میں انصار اللہ کی بھاری ذمہ داری آج کل جماعت کے خلاف کئی قسم کے غلط اور بے بنیاد اعتراض کر کے فتنے پیدا کئے جارہے ہیں اور غلط فہمیوں کا گویا ایک جال پھیلا دیا گیا ہے۔انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ پُر امن تبلیغ اور حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعے لوگوں کو صحیح حالات بتائیں اور جماعت احمدیہ کے حقیقی عقائد اور نظریات سے آگاہ کریں تا کہ لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوں اور حق کی شناخت میں کوئی روک نہ رہے۔خدا تعالیٰ نے صداقت میں ایسی کشش رکھی ہے کہ اگر وہ صحیح رنگ میں محبت اور ہمدردی کے طریق پر لوگوں کے سامنے پیش کی جائے تو سوائے غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کے ہر شریف انسان اس سے لازماً متاثر ہوتا ہے۔پس آپ کو میری یہ دردمندانہ نصیحت ہے کہ ایک طرف تو آپ پر امن طریق پر حق کی تبلیغ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور دوسری طرف اپنا اخلاقی اور روحانی نمونہ ایسا بنا ئیں کہ لوگ آپ کا نمونہ دیکھ کر خود بخود آپ کی طرف کھنچے چلے آئیں۔آپ کے چہروں پر اخلاق حسنہ کی روشنی اور روحانیت کا نور نظر آنا چاہئے جس کے نتیجے میں ایک پاکباز انسان مقناطیس بن جاتا ہے اور خدا کی طرف سے اسے ایک زبر دست کشش عطا ہوتی ہے۔پس دوستو! میں پھر یہی کہوں گا کہ تبلیغ اور تربیت کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دو کہ اسی میں ہماری کامیابی کی کلید ہے۔انصار کی نرسری میں نے اس سال خدام الاحمدیہ کے افتتاحیہ خطاب میں بیان کیا تھا کہ دراصل جماعت کے یہ تینوں نظام یعنی اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرے طور پر مربوط ہیں اور ان میں تاثیر و تاثر کا مضبوط رابطہ قائم ہونا چاہئے۔اچھا با غبان اپنے باغ کی تیاری کے لئے پہلے ایک نرسری یعنی علیحدہ پلاٹ میں چھوٹے چھوٹے پودے لگاتا ہے۔پھر جب وہ ذرا بڑے اور کسی قدر مضبوط ہو جاتے