مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 420 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 420

مضامین بشیر جلد چهارم 420 انصار اللہ کا کام اور اس کی بے انداز وسعت سالانہ اجتماع انصار اللہ 1962 ء پر افتتاحی خطاب ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مورخہ 26 اکتوبر 1962ء کو انصار اللہ کے آٹھویں سالانہ اجتماع کا افتتاح فرماتے ہوئے جو روح پر دور اور بصیرت افروز خطاب فرمایا تھا وہ حقائق و معارف سے پُر ہونے کے علاوہ بیش بہا نصائح اور نہایت قیمتی ہدایات پر مشتمل ہے۔ماہنامہ انصار اللہ حضرت میاں صاحب کے اس انتہائی اہم افتتاحیہ خطاب کا مکمل متن ذیل میں شائع کرنے کا فخر حاصل کر رہا ہے۔ادارہ ) گزشتہ سال کی طرح اس سال پھر مجھے انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کے افتتاحیہ خطاب کے لئے ارشاد ہوا ہے۔پس سب سے پہلے تو میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں اپنے بھائیوں کے کانوں میں مفید اور نیک باتیں ڈال سکوں۔پھر آپ لوگوں کو بھی توفیق دے کہ اگر کوئی مفید اور نیک بات میرے منہ سے نکلے تو آپ کے دل و دماغ کی کھڑکیاں اسے قبول کرنے کے لئے کھلی ہوں۔وَمَا تَوْفِيْقُنَا إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ - انصار کا کام خدا کے کام میں مدددینا ہے جیسا کہ انصار اللہ کے لفظ سے ظاہر ہے انصار اللہ کا کام دراصل خدا کے کاموں میں اسے مدد دینا اور اس کی نصرت کرنا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ کام اتنا وسیع اور اتنا اہم ہے کہ جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ حساب۔پس اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ ہم حقیقی معنوں میں انصار اللہ تبھی بن سکتے ہیں کہ جب خدائے عرش خوداس کام میں ہمارا ناصر بن جائے۔کام بہت وسیع ہے اور منزل بہت دور۔پس خدا کی نصرت کے بغیر ہم کبھی بھی انصار اللہ والے فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانا آسان ہے مگر حقیقی معنوں میں انصار اللہ بننا مشکل ہے اور بہت مشکل اور بہت ہی مشکل۔اس کے لئے دن رات کا آرام تلخ کرنا پڑتا ہے اور جگر خون کی طرح بہانا پڑتا ہے۔خدا ہی کی کشتی اور خدا ہی کشتی بان پس سب سے پہلے اپنے انصار بھائیوں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس اہم اور نازک کام میں ہم سب کی نصرت فرمائے اور جو کشتی اُس نے دنیا کے وسیع سمندر میں آگے دھکیلنے