مضامین بشیر (جلد 4) — Page 421
مضامین بشیر جلد چهارم 421 کے لئے ہمارے کمزور ہاتھوں کے سپرد کر رکھی ہے اس کے چنو خود اپنے ہاتھوں میں سنبھال لے۔جب ہمیں یہ خدائی نصرت حاصل ہو جائے گی تو کامیابی بھی یقینی ہوگی اور آپ لوگوں کو بھی یقینا بے حساب ثواب حاصل ہوگا۔اور اگر دیکھا جائے تو یہ ثواب دراصل مفت کا ثواب ہوگا کیونکہ کشتی بھی خدا کی ہے اور کشتی کا چلانے والا بھی خدا کا ہاتھ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ۔بمفت ایں اجر نصرت را دہندت اے اخی ورنہ قضاء آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نے خدائی کام میں مدد کے لئے اپنے حواریوں کو آواز دی تو ادب کے خیال سے یہ نہیں فرمایا کہ مَنْ أَنْصَارُ اللهِ بلکہ عاجزی کے رنگ میں یہ الفاظ فرمائے کہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللہ یعنی اس خدائی کام میں میرا مددگار کون بنتا ہے؟ پس حقیقتا آپ لوگ اور ہم سب لوگ انصار اللہ نہیں بلکہ انصَارِ أَحْمَدَ إِلَى اللهِ ہیں اور یہ سراسر خدا کی شفقت ورحمت ہے کہ اس نے ہمیں خدمت کا موقع عطا فرمایا ہے۔انسان کی پختگی کی عمر چالیس سال ہے اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ قدرت نے نبوت اور رسالت کی پختگی کے لئے چالیس سال کی عمر مقررفرمائی ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةٌ عَنی جب موسی اپنی عمر کی پختگی کوپہنچ گیا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اُسے رسالت اور نبوت کی خلعت سے نوازا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی چالیس سال کی عمر میں ہی الہی بشارت سے حصہ پایا۔بیشک حضرت عیسی اس عمر سے پہلے ہی نبی بنادیئے گئے تھے مگر یہ خاص مصلحت کے ماتحت ایک استثنائی صورت تھی۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا - یعنی مسیح ناصری نبوت کی پختگی کے لحاظ سے گویا بچپن میں ہی لوگوں کو پیغام حق پہنچانے لگ گیا تھا اور پھر ( صلیب کے واقعہ سے بچنے کے بعد ) ادھیڑ عمر میں اُس کے لئے پیغام حق پہنچانے کا دوسرا زمانہ آیا۔پس اے میرے انصار بھائیو! آپ کی مجلس کی رکنیت کے لئے بھی اصل عمر چالیس سال قرار دی گئی ہے جو رسالت کی پختگی کی عمر ہے۔اس لئے یا درکھو کہ اگر آپ نے اس عمر میں بھی غفلت اور ستی سے کام لیا تو خدا