مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 419 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 419

مضامین بشیر جلد چهارم 419 اس خطاب کو ختم کرتا ہوں جہاں تک میں نے قرآن مجید اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور ملفوظات کا مطالعہ کیا ہے انسان کی ذاتی نیکی اور ذاتی اخلاق کا خلاصہ تین باتوں میں آجاتا ہے۔اول یہ کہ اس کا اپنے خالق و مالک کے ساتھ ذاتی تعلق اور رابطہ پیدا ہو جائے اور وہ اپنے خدا کو سچ مچ پہچان لے اور اس کے ساتھ اس طرح لپٹا رہتا ہے اس غرض کے لئے نمازوں کی پابندی اور نمازوں میں خشوع و خضوع کے ساتھ دعاؤں کی عادت پیدا کرنا کامیابی کی کلید ہے۔نماز اس طرح پڑھو کہ گویا تم خدا کے سامنے کھڑے ہو خدا تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اس سے دعا اس رنگ میں کرو کہ گویا ہمیں جو کچھ ملنا ہے اسی دربار سے ملنا ہے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ کتنا پیار ا قول ہے کہ الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ “ (الترندی کتاب الدعوات عن رسول اللہ ) یعنی دعا نماز کے اندر کا گودا ہے۔جس طرح ایک ہڈی گودے کے بغیر غذا کے لحاظ سے ناکارہ چیز ہوتی ہے اسی طرح نماز بھی دعا کے بغیر چنداں حقیقت نہیں رکھتی۔دوسری بات یہ ہے کہ جس نظام کے ساتھ تم لوگ پروئے گئے ہو یعنی جماعت احمدیہ کا الہی نظام جو دنیا میں نیکی کو ترقی دینے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے خدا کی طرف سے پیدا کیا گیا ہے اس کی اعانت اور مدد کے لئے ضرور اپنی حیثیت کے مطابق اپنی آمدنی میں سے یا اگر تم طالب علم ہو تو اپنے جیب خرچ میں سے چندہ دیتے رہو۔جو شخص احمدی ہونے کا دعوی کرتا ہے اور پھر اسلام کی اعانت میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتا وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور خدا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔تیسری بات یہ ہے کہ اپنے اندر سچ بولنے کی عادت اور اپنے اعمال میں دیانتداری کی روح پیدا کرو۔یہ دونوں اخلاق انسان کا بہترین زیور ہیں اور ایسا انسان خواہ امیر ہو یا غریب، کمزور ہو یا طاقتور اس کی گردن کسی شخص کے سامنے اور کسی مجلس میں نیچی نہیں ہو سکتی پس ہمیشہ سچ بولو اور صداقت کو اپنا وطیرہ بناؤ اور ہمیشہ دیانتدار رہو اور کسی سے دھو کہ نہ کرو اور خیانت سے یوں بھا گو جیسے کہ ایک ہوش مند انسان زہریلے سانپ سے بھاگتا ہے۔بس یہی میری نصیحت ہے اور اسی پر میں اپنے اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے۔آمین یا ارحم الراحمین محرره 19 اکتوبر 1962ء) روزنامه الفضل ربوہ 24 نومبر 1962ء)