مضامین بشیر (جلد 4) — Page 414
مضامین بشیر جلد چهارم 414 تقریر اور تحریر کے مقابلے تقریر اور تحریر کے مقابلے تو خدام الاحمدیہ کے اجتماعوں میں ہوتے ہی ہیں ان پر آئندہ خصوصیت سے زیادہ زور دینا چاہئے۔تا کہ خدا چاہے تو ہمارے ہر بچہ کا حجاب دور ہو جائے اور اسے تقریر اور تحریر میں ایسی مشق پیدا ہو جائے جس کے نتیجہ میں انسان دوسروں کے دل کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِنَّ مِنَ البَيَاتِ لَسِخرًا یعنی بعض بیان ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں جادو کی تاثیر ہوتی ہے۔یہی جادو ہر خادم کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔بیشک مختلف انسانوں میں فطرت کی طاقتوں کے لحاظ سے طبعا فرق ہوتا ہے مگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے کوشش ہونی چاہئے کہ جن نوجوانوں میں زبان اور قلم کا جو ہر موجود ہو ان میں مسلسل مشق کے ذریعہ ایک غیر معمولی کشش اور جلاء پیدا کر دیا جائے۔میں نے گزشتہ سال بیان کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرب صحابی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی میں یہ دونوں جو ہر بدرجہ اتم موجود تھے۔ان کی تقریر بھی سحر تھی اور ان کی تحریر بھی سحر تھی۔اور انسان ان کی تحریر پڑھ کر اور تقریرین کر یوں محسوس کرتا تھا کہ اس کے اندر کسی غیبی بیٹری کے ذریعہ بجلی بھری جارہی ہے۔اکثر اوقات ان کی تلاوت سن کر رستہ میں گزرتے ہوئے کئی غیر مسلم بھی رک کر سننے لگ جاتے تھے۔یہی ملک خدا کے فضل سے ہمارے خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز میں موجود ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے کر پھر جماعت کو یہ موقع عطا فرمائے کہ وہ آپ کی مسحور کرنے والی تقریریں سن سکیں۔آمین یا ارحم الراحمین فیشن پرستی کی وہا سے خدام الاحمدیہ کو بچنا چاہئے گزشتہ ایام میں میں نے روز نامہ الفضل میں فیشن پرستی کی بڑھتی ہوئی وباء کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا۔میں خدام الاحمدیہ کو بھی اس اجتماع کے موقع پر اس اصلاح کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔میں مانتا ہوں کہ جائز حد تک زینت کا خیال ایک فطری تقاضا ہے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے بھی کپڑوں اور بدن کی صفائی پر بہت زور دیا ہے۔حتی کہ ارشاد فرمایا ہے کہ کم از کم جمعہ کے دن غسل کرنے کے بعد صاف کپڑے پہن کر مسجد میں آؤ۔اور اگر توفیق ہو تو خوشبو بھی لگاؤ۔پس مناسب حد تک زینت نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری بھی ہے اور جائز زینت اسلامی تعلیم کا حصہ ہے۔لیکن دوسری قوموں کی اندھی نقل میں فیشن پرستی کا طریق اختیار کرنا اور جسمانی زیب وزینت کو گویا زندگی کا مقصد بنالینا اور اس میں انہماک پیدا کرنا ایک بہت ہی مکروہ فعل اور غلامانہ ذہنیت کا مظہر ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو فیش پرستی کے طریق سے بالکل بچ کر رہنا