مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 413 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 413

مضامین بشیر جلد چهارم 413 اور دوم اور سوم آنے والوں کے لئے مناسب انعامات مقرر کئے جائیں جو سالانہ اجتماع کے وقت دیئے جائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ سرسری طور پر نہیں بلکہ اگر اچھی طرح سوچے سمجھے پروگرام کے ماتحت ایسے امتحانوں اور ان کے نصابوں کا انتظام کیا جائے تو نہ صرف نوجوانوں میں علم کا شوق ترقی کرے گا بلکہ ان کی قوت عملیہ میں بھی خدا کے فضل سے بہت اضافہ ہوگا اور ضمنی طور پر عربی سیکھنے کی طرف بھی کسی قدر توجہ پیدا ہو گی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیق کے مطابق تمام زبانوں کی ماں ہے اور اسی لئے قرآن مجید کو جو ساری دنیا اور ساری قوموں کے لئے آیا ہے عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔تربیتی اجتماعوں کی اہمیت مجھے یہ خوشی ہے کہ اس سال ملک کے مختلف مقامات میں خدام الاحمدیہ کے زیر انتظام نہایت کامیاب تربیتی اجتماعات ہوئے ہیں جن میں خدام نے بڑی دلچسپی سے حصہ لیا ہے اور خدا کے فضل سے انصار بھی اس خدمت میں شریک ہوتے رہے ہیں۔جیسا کہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے یہ تربیتی اجتماع کئی لحاظ سے بہت مفید اور کامیاب ہوئے ہیں۔یعنی اول تو ان کے ذریعہ نو جوانوں میں تنظیم اور اخلاص اور سلسلہ کے ساتھ محبت کی روح نے ترقی کی۔دوسرے شرکت کرنے والے خدام کے معلومات میں قابل قدر اضافہ ہوا اور تیسرے جو غیر از جماعت اصحاب ایسے اجتماعوں میں شریک ہوئے انہوں نے بھی خدا کے فضل سے بہت اچھا اثر لیا۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہے کوشش کرنی چاہئے کہ اس قسم کے اجتماع ہر ضلع میں منعقد ہوا کریں اور ان میں علماء کی تقریروں کے علاوہ خود سمجھدار خدام کی بھی تقریریں ہوں اور کچھ تلاوت اور دلپذ یر نظموں اور دوسرے دلچسپ کاموں کو بھی پروگرام میں شامل کیا جایا کرے۔قوالی تو ہرگز پسندیدہ چیز نہیں اور اس سے ہمارے عزیزوں کو اجتناب کرنا چاہئے۔لیکن خالقِ فطرت نے اچھی آواز میں ایک خاص اثر رکھا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے قرآن مجید کی تلاوت یا کچھ اشعار سنے تو اس کی دلکش آواز سے خوش ہو کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں لحن داؤدی سے حصہ ملا ہے۔یہ آپ نے اس لئے فرمایا کیونکہ روایتوں میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام خوبصورت آواز کے بہت ماہر اور بہت شوقین تھے۔مگر ضروری ہے کہ ہر بچہ یا ہر نو جوان جس سے کسی اجتماع میں تلاوت با نظم خوانی کروانی ہو اس سے کوئی سمجھدار انسان علیحدہ بیٹھ کر اجتماع سے قبل تلاوت اور نظم خوانی سن لے اور اگر کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح کر دے تا کہ جلسہ میں بے لطفی نہ پیدا ہوا اور ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت بھی ہوتی جائے۔