مضامین بشیر (جلد 4) — Page 412
مضامین بشیر جلد چہارم 412 فضل و رحمت سے علم کے آسمان پر پہنچا دیا مگر پھر بھی آپ کی یہی پکار رہی کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔رَبِّ زدْنِي عِلْمًا یعنی خدایا مجھے اور علم عطا کر۔مجھے اور علم عطا کر۔دینی علوم کے تین بنیادی خزانے دینی علوم کے حصول کے لئے آپ لوگوں کے واسطے تین نہایت قیمتی خزانے موجود ہیں۔ایک قرآن مجید ہے جو خدا کا کلام ہے اور اس کے علوم میں اتنی وسعت ہے کہ قیامت تک کے لئے اور دنیا کی ساری قوموں کے لئے وہ تمام ضروری علوم کا خزانہ اور سر چشمہ قرار دیا گیا ہے۔پس اسے سیکھو اور اس کے ساتھ محبت پیدا کرو۔ایسی محبت جس کی نظیر نہ ہو۔پھر حدیث جو حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اقوال کا مجموعہ ہے اور وہ بھی بیش بہا علوم پر مشتمل ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح مکہ کے صحرا میں پیدا ہونے والے ایک امی نے علوم کے دریا بہا دیئے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور ملفوظات ہیں جو ایک عمدہ اسٹیج کے ٹکڑے کی طرح علم کے شہد سے بھر پور ہیں اور ان میں اس زمانے کی بیماریوں کا مکمل علاج ودیعت کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتب اور خطبات ہیں جنہیں پڑھ کر غیر متعصب دشمن بھی عش عش کر اٹھتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ علم تو ایسی چیز ہے کہ جہاں بھی کوئی حکمت اور دانائی کی بات ملے اور اس میں کوئی دھوکہ اور ملمع سازی کا پہلو پوشیدہ نہ ہو تو اسے بھی شوق کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ہمارے آقا حضرت سرور کائنات ( فدا نفسی کا کتنا پیارا قول ہے کہ كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا - یعنی حکمت اور دانائی کی بات مومن کی اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز ہوتی ہے۔اسے چاہئے کہ جہاں بھی ایسی بات پائے اسے لے لے۔دینی کتب کے امتحان کا وسیع انتظام ہونا چاہئے اس تعلق میں میں صدر صاحب خدام الاحمدیہ کو بھی یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو وہ پاکستان کے ہر ضلع میں خدام الاحمدیہ کے انتظام کے ماتحت دینی کتب کا سال وار یا ششماہی امتحان لیا کریں۔جس میں قرآن مجید اور حدیث اور کتب سلسلہ میں سے مناسب نصاب مقرر کیا جائے اور ملک کے مختلف حصوں میں سوالات کے پرچے بھجوا کر امتحان کا انتظام کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ سوائے کسی جائز عذر کے کوئی خادم اس امتحان سے باہر نہ رہے تا کہ خدام کے علم میں بھی ترقی ہو اور یہ علم خدا کے فضل سے ان کے عمل میں بھی اصلاح اور ترقی کا باعث بن جائے۔اور ترغیب و تحریص کی غرض سے اس امتحان میں اول