مضامین بشیر (جلد 4) — Page 21
مضامین بشیر جلد چهارم 21 یہ خاکسار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں پیدا ہوا اور یہ خدا کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کے شکریہ کے لئے میری زبان میں طاقت نہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ میرے دل میں اس شکریہ کے تصور تک کی گنجائش نہیں۔مگر میں نے ایک دن مر کر خدا کو جان دینی ہے۔میں اسی آسمانی آقا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میرے دیکھنے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر بلکہ محض نام لینے پر ہی حضرت مسیح موعود کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھلی نہ آگئی ہو۔آپ کے دل و دماغ بلکہ سارے جسم کا رواں رؤاں اپنے آقا حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے معمور تھا۔ایک دفعہ کا ایک واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے مکان کے ساتھ والی چھوٹی مسجد جو مسجد مبارک کہلاتی ہے اکیلے ٹہل رہے تھے اور آہستہ آہستہ کچھ گنگناتے جاتے تھے۔اور اس کے ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی تار بہتی چلی جارہی تھی۔اس وقت ایک مخلص دوست نے باہر سے آکر سنا تو آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حسان بن ثابت کا ایک شعر پڑھ رہے تھے جو حضرت حسان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا تھا اور وہ شعر یہ ہے: كُنتَ السَّوَادَ لِـــــــاظـــرى عَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ عَلَيْكَ كُـــنــــتُ أُحَاذِرٌ (دیوان حسان بن ثابت ) یعنی اے خدا کے پیارے رسول ؟! تو میری آنکھ کی پتلی تھا جو آج تیری وفات کی وجہ سے اندھی ہوگئی ہے۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے، مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہوگئی۔راوی کا بیان ہے کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس طرح روتے ہوئے دیکھا اور اس وقت آپ مسجد میں بالکل اکیلے ٹہل رہے تھے تو میں نے گھبرا کر عرض کیا کہ حضرت! یہ کیا معاملہ ہے اور حضور کو کونسا صدمہ پہنچا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں اس وقت حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ آرز و پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا“ دنیا جانتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سخت سے سخت زمانے آئے۔ہر قسم کی تنگی دیکھی۔طرح طرح کے مصائب برداشت کئے۔حوادث کی آندھیاں سر سے گزریں۔مخالفوں کی طرف سے انتہائی تلخیوں