مضامین بشیر (جلد 4) — Page 404
مضامین بشیر جلد چهارم خواتین کرام اور ہمشیرگان ! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 404 لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں ان کے سالانہ اجتماع کے موقع پر ٹیپ ریکارڈنگ مشین کے ذریعہ انہیں ایک مختصر سا پیغام دوں۔سوسب سے پہلے تو میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے اس مرکزی اجتماع کو کامیاب کرے اور اس کے بہترین نتائج پیدا ہوں۔یہ امر بڑی خوشی کا موجب ہے کہ ہماری مستورات میں خدا کے فضل سے غیر معمولی بیداری کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔اور وہ اسلام اور احمدیت کی خدمت میں بڑے شوق اور ذوق سے حصہ لینے لگی ہیں۔اور تعلیم کے حصول میں بھی ان کا قدم تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔عورتیں گو تعداد کے لحاظ سے کسی جماعت یا سوسائٹی کا نصف حصہ ہوتی ہیں مگر اس لحاظ سے کہ ان کے ہاتھ میں قوم کے نو نہال پرورش پاتے ہیں اور اگلی نسل کی ابتدائی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے ان پر ایک طرح سے مردوں کی نسبت بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔اس سے صرف یہی مراد نہیں کہ بچے ماؤں کی خدمت کا ثواب حاصل کر کے اپنے لئے جنت کا دروازہ کھول سکتے ہیں بلکہ اس میں یہ بھی لطیف اشارہ ہے کہ ماؤں کی اچھی تربیت کے نتیجہ میں ساری قوم کا قدم ہی جنت کی طرف اٹھ سکتا ہے۔پس میں لجنہ کی ممبرات کو جو ہماری بہنیں اور بیٹیاں ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ ذوق وشوق سے کام لیں اور دین کی خدمت کا ایسا نمونہ دکھا ئیں جو حقیقتا عدیم المثال ہو۔عورت ایک بڑی عجیب و غریب ہستی ہے۔ایک طرف وہ اپنے حسن تدبر اور خدمت اور محبت کے ذریعہ اپنے خاوند کا گھر اس کے لئے جنت بنا سکتی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی اچھی تربیت کر کے جماعت کی عالی شان خدمت سر انجام دے سکتی ہے۔مجھے یہ خوشی ہے کہ جماعت میں مستورات کے اندر تعلیم کے لحاظ سے بہت بیداری پائی جاتی ہے مگر میرا یہ احساس ہے خدا کرے کہ وہ غلط ہو کہ ابھی تک جماعت کی مستورات کو تبلیغ کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے۔اگر احمدی عور تیں تعلیم کی طرح تبلیغ کی طرف بھی زیادہ توجہ دیں تو خدا کے فضل سے ان کے ذریعہ بہت جلد بھاری تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔میری دعا ہے کہ لجنہ اماءاللہ جلد تر اس مقام کو حاصل کرلے جس میں وہ نہ صرف تعلیم کے میدان میں بلکہ تبلیغ اور تربیت کے لحاظ سے بھی ایک مثالی تنظیم بن جائے۔خدا کرے