مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 390 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 390

مضامین بشیر جلد چہارم 390 الفضل میں شائع کروارہا ہوں۔فقط خاکسار مرزا بشیر احمد )۔09 آپ کا خط ملا۔میں آپ کا خط آنے سے پہلے ہی از خود ثالث صاحب کو یاد دہانی کرا چکا ہوں کہ جانے میں کیوں دیر کر رہے ہیں۔ایک دو دن انتظار کر کے پھر لکھوں گا۔میں ثالث صاحب کی نیت پر بدظنی نہیں کرتا۔وہ نیک آدمی ہیں۔لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ وہ غلط فہمی یا ہمسائیگیت کے اثر کے ماتحت غیر شعوری طور پر غلطی کر جائیں۔میں نے ان کو امیر ضلع کے ذریعہ بھی پیغام بھجوایا ہے کہ انصاف کے تر از وکو برابر رکھیں اور ٹھوکر کھانے سے بچیں۔لیکن آپ کے خط کا ایک فقرہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا۔آپ نے احمدی ہو کر یہ بہت بُری بات لکھی ہے کہ اگر عورت کے فسخ نکاح کا معاملہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے تو یہ عورت پر ظلم ہے۔اور اس صورت میں خدا نے عورت کو کیوں پیدا کیا وغیرہ وغیرہ۔آپ اپنے اس خیال سے تو بہ کریں۔کیونکہ آپ کا یہ خیال اسلامی مسئلہ سے قطعی ناواقفیت پر مبنی ہے۔اسلام نے فسخ نکاح کے لئے مرد اور عورت کو ایک جیسا اختیار دیا ہے۔صرف طریق کار میں فرق رکھا ہے کہ چونکہ عورت اپنی سادگی کی وجہ سے دھو کے کا شکار ہوسکتی ہے اس لئے جہاں مرد کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خود بیوی کو طلاق دے سکتا ہے وہاں عورت کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ قاضی یا حاکم کے ذریعہ علیحدگی حاصل کرے۔تا کہ کسی دھو کے باز شاطر کے فریب کا شکار نہ ہو جائے۔میں آپ کو رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم کی ایک لطیف حدیث سناتا ہوں۔ایک دفعہ ایک مسلمان عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرا خاوند نیک ہے۔میں اس کی نیکی میں کوئی نقص نہیں نکالتی۔مگر میرا دل اس کے ساتھ خوش نہیں۔اس لئے میں اس کے ساتھ رہ کر ناشکری کی زندگی نہیں گزارنا چاہتی۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خداداد فراست سے سمجھ گئے کہ اس عورت کی بات حق وصداقت پر مبنی ہے اس لئے آپ نے اس کے خاوند کو بلایا اور اسے ارشاد فرمایا کہ اسے اپنے نکاح سے فارغ کر کے رخصت کر دو۔اور عورت کو حکم دیا کہ تمہیں جو مہر یہ دے چکا ہے وہ اسے واپس کر دو۔پس اسلام نے مرد اور عورت میں تراز و بالکل برابر رکھا ہے آپ اسلام پر اعتراض کر کے گناہ گار نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو لغزش سے بچائے اور آپ کے معاملہ میں ثالث کو صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔محرره 22 ستمبر 1962ء) روزنامه الفضل 26 ستمبر 1962ء)