مضامین بشیر (جلد 4) — Page 384
مضامین بشیر جلد چهارم 384 اسے وہاں کے لوگوں کی ذہنیت کے لحاظ سے اسلام کی تعلیم کو بہترین شکل میں پیش کر سکیں اور آپ کی زبان میں غیر معمولی اثر پیدا ہو جائے۔چوتھے آپ ڈنمارک اور اس کے قرب وجوار کے ممالک کے مذاہب اور وہاں کے باشندوں کے نظریات کا اس رنگ میں مطالعہ کریں اور ان سے ایسی گہری واقفیت پیدا کریں کہ مناسب موقع پر ان کا بہترین رد کر سکیں۔دراصل یہی وہ چارستون ہیں جن پر ایک مبلغ کی کامیابی کا دارو مدار ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو احمدی مبلغ ان چار پہلوؤں کا خیال رکھے گا اور ان کی طرف پوری توجہ دے گا وہ خدا کے فضل سے ضرور کامیاب ہو گا۔اس وقت خدا کی تقدیر بلکہ میں کہوں گا کہ اس کی زبر دست تقدیر جو زمین و آسمان کو حرکت میں لانے کی طاقت رکھتی ہے اسلام اور احمدیت کو آگے بڑھانے اور اوپر اٹھانے میں لگی ہوئی ہے۔صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگ اپنی مستیوں کو ترک کر کے اور سچ مچ خدا کے بندے بن کر اس کے دین کی خدمت میں لگ جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چل کر شاہی نوکروں میں بھرتی ہو جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین ( محرره 16 ستمبر 1962 ء) روزنامه الفضل 20 ستمبر 1962ء) 60 رپورٹ اجلاس نگران بورڈ منعقد 90 ستمبر 1962ء (1) 9 ستمبر 1962ء بروز اتوار صدر، صدر انجمن احمدیہ کے کمرہ میں صبح آٹھ بجے نگران بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔تمام ممبران بورڈ بلا استثناء شریک اجلاس ہوئے اور دعا کے بعد بورڈ کی کارروائی شروع کی گئی جو قریباً چھ گھنٹے تک مسلسل جاری رہی۔(2) بعض انفرادی اپیلوں اور متفرق معاملات کے علاوہ مسجد احمد یہ ٹو بہ ٹیک سنگھ اور مسجد احمد یہ سرگودھا کے متعلق حالات پیش کر کے غور کیا گیا۔اس معاملہ میں شرکت کے لئے چوہدری نذیر احمد صاحب باجوہ ایڈووکیٹ سیالکوٹ کو بھی خاص طور پر دعوت دی گئی تھی۔چنانچہ شیخ محمد احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لائل پور ( حال۔فیصل آباد ) اور مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعت احمد یہ سرگودھا کی طرف سے ان ہر دو مساجد