مضامین بشیر (جلد 4) — Page 385
مضامین بشیر جلد چهارم 385 کے متعلق تازہ حالات پیش کئے جانے پر ضروری تجاویز کی گئیں اور ہر دو اضلاع کے امراء کو نوٹ کرائی گئیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان مساجد کی تعمیر کے متعلق سہولت کا رستہ کھول دے اور غیر از جماعت اصحاب کو سمجھ دے کہ وہ خدا کا گھر آباد کرنے میں روک نہ بنیں اور حکومت کے افسروں کو بھی صحیح فیصلہ کی طرف راہنمائی فرمائے۔(3) لاہور میں احمد یہ ہوٹل کے قیام کے متعلق دوبارہ معاملہ پیش ہونے پر فیصلہ کیا گیا کہ نگران بورڈ کی رائے میں کم از کم فی الحال فوری طور پر احمد یہ ہوٹل کی تعمیر کے لئے لاہور میں مناسب موقع پر ایک پلاٹ خرید لینا چاہئے جس کا رقبہ چار کنال سے چھ کنال تک ہو۔نظارت تعلیم اس کی جگہ کا انتخاب صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کے مشورہ سے کرے اور اس کے ساتھ ہی آئندہ مشاورت میں احمد یہ ہوٹل کے عملی اجراء کے لئے معاملہ پیش کیا جائے۔اس بات پر زور دیا گیا کہ لاہور کے کالجوں میں احمدی طالب علموں کی روز افزوں تعداد اس بات کی شدت کے ساتھ متقاضی ہے کہ اپنے بچوں کے لئے اچھا ماحول مہیا کرنے کے لئے جلد تر احمد یہ ہوٹل جاری کر دیا جائے۔(4) اس وقت صدر انجمن احمد یہ میں جو ناظر صاحبان کام کرتے ہیں وہ عموماً بوڑھے اور پینشن یافتہ ہیں۔لہذا فیصلہ کیا گیا کہ صف دوم کی تیاری کی غرض سے صدر انجمن احمد یہ ایسے نو جوان بھرتی کرے جو گریجوایٹ ہوں اور عربی بھی جانتے ہوں اور اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے بھی واقف ہوں اور پھر انہیں مختلف صیغوں میں ٹریننگ دلانے کے بعد اس غرض کے لئے تیار کیا جائے کہ وہ ضرورت پیش آنے پر ناظروں کے طور پر کام کر سکیں۔یہی ضرورت ایک حد تک تحریک جدید میں بھی ہے۔(5) ملک میں آزادی کی رو اور فیشن پرستی کے رجحان کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے اس بارہ میں مناسب مضامین شائع کئے جائیں تا کہ احمدی نو جوان (لڑکے اور لڑکیاں) دوسروں کی دیکھا دیکھی اس نا گوار رو میں نہ بہنے لگ جائیں۔اور اپنے کردار کو اسلامی معیشت کے مطابق سادہ زندگی کے طریق پر بنائیں۔اسی طرح ملک میں جو سینما بینی کا سیلاب آ رہا ہے اور مختلف قسم کی بدا خلاقیوں کا موجب بن رہا ہے اس سے بھی احمدی نو جوانوں کو بچانے کی مؤثر تدابیر کی جائیں اور اس بارہ میں نظارت امور عامہ اور ضلعوار امراء اور مقامی امراء کو اچھی طرح ہوشیار کر دیا جائے۔(6) ملک میں بے پردگی کے رجحان کے متعلق تجویز کی گئی کہ جس طرح نظارت امور عامہ دوسری خرابیوں پر نوٹس لیتی ہے۔اسی طرح بے پردگی کی رپورٹ آنے پر اس کے متعلق بھی نوٹس لیا جائے اور اس