مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 380 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 380

مضامین بشیر جلد چهارم ہم سب کے ساتھ ہو۔380۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل 23 اگست 1962ء) فیشن پرستی کی وبا سے بیچ کر رہو کچھ عرصہ ہوا میں نے جماعت کے دوستوں کواخبار روز نامہ الفضل کے ایک نوٹ کے ذریعہ بے پردگی کے رجحان کے خلاف نصیحت کی تھی۔اور حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایک سابقہ خطبہ جمعہ کی طرف توجہ دلا کر جماعت کے افراد اور جماعت کے ذمہ دار کارکنوں کو ہوشیار کیا تھا کہ وہ بے پردگی کے رجمان کا سختی کے ساتھ مقابلہ کریں اور احمد یہ جماعت کی جو عورتیں اور جولڑکیاں ماحول کے خراب اثرات کے نتیجہ میں بے پردگی کی طرف غلط رجحان پیدا کر رہی ہیں (اور خدا کے فضل سے اب تک ان کی تعداد تھوڑی ہے ) ان کے خلاف ابتدائی انتباہ کے بعد سخت ایکشن لیا جائے۔اب اپنے موجودہ نوٹ میں میں فیشن پرستی کے رجحان کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔دراصل بے پردگی اور فیشن پرستی کا باہمی رشتہ ایک طرح سے دو بہنوں والا رشتہ ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا اثر دوسرے پر بہت گہرا پڑتا ہے۔بے پردگی آخر کار عورتوں کو بالعموم فیشن پرستی کی طرف دھکیل دیتی ہے اور دوسری طرف فیشن پرستی کا رجحان آہستہ آہستہ بے پردگی کی طرف کھینچ لاتا ہے۔پس ہماری جماعت کی عورتوں اور لڑکیوں کو چاہئے کہ ان دونوں خرابیوں سے بچ کر رہیں۔یعنی وہ اسلامی پردہ کی پابندی اختیار کریں اور فیشن پرستی کی وباء سے بھی بچ کر رہیں ورنہ وہ کبھی بھی کچی احمدی اور بچی مسلمان نہیں سمجھی جاسکتیں۔اسلام سادہ زندگی پر زور دیتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ہمیشہ سادہ زندگی پر زور دیا کرتے تھے۔میرے کانوں میں ہمیشہ حضور کے یہ الفاظ گونجتے ہیں کہ مجھے سادہ لوگ بہت پسند ہیں جو دنیا میں سادگی کی زندگی گزارتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے افضل الرسل اور خاتم النبیین کے قدموں پر دنیا کی دولت ڈال دی اور عرب کا بے تاج بادشاہ بنا دیا مگر آپ نے اس ارفع مقام کے باوجود ایسی سادہ زندگی گزاری کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔حدیث میں آتا ہے کہ آپ موٹے پٹھے کی چٹائی پر اس بے تکلفی سے لیٹ جاتے تھے کہ اس کے نشان آپ کے جسم پر ظاہر ہونے لگتے تھے۔ایک دفعہ ایک عورت اپنی کوئی حاجت پیش کرنے کے لئے آپ کے سامنے آئی اور آپ کے رعب کی وجہ سے تھر تھر کانپنے لگی اور اس کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔آنحضرت صلے اللہ علیہ