مضامین بشیر (جلد 4) — Page 377
مضامین بشیر جلد چهارم 377 میں حائل ہو جاتی ہیں اور میں ان کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کرتا مگر آپ جانتے ہیں کہ بعض گزشتہ سالوں میں 90 فیصد کے قریب بلکہ اس سے بھی اوپر ہمارا نتیجہ نکلتا رہا ہے۔حالانکہ یہ روکیں اس زمانہ میں بھی موجود تھیں۔پس آپ مہربانی کر کے میرا یہ درد بھرانوٹ ہر دو سکولوں کے ہیڈ ماسٹر صاحبان کو من و عن نقل کر کے بھجوا دیں اور خدا کے لئے آئندہ زیادہ کوشش کر کے اپنے نتائج کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ہمارے سکول ہمارے ہیڈ ماسٹروں کے پاس ایک مقدس امانت ہیں۔جس میں جماعت کے بچے تعلیم پاتے ہیں۔پس ہمارے افسروں کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اس امانت کو بہتر صورت میں ادا کریں۔ورنہ وہ خدا کے سامنے بھی ذمہ دار ہوں گے۔اور جماعت بھی انہیں ذمہ دار قرار دے گی۔اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو اور آئندہ بہتر نتائج دکھانے کی توفیق دے۔والسلام خاکسار:۔مرزا بشیر احمد ( محررہ 17 جولائی 1962 ء) روزنامہ الفضل 21 جولائی 1962ء) شجر کاری کا ہفتہ اور اہل ربوہ کی ذمہ داری میں چونکہ بیمار ہوں اس لئے زیادہ نہیں لکھ سکتا لہذا اس سال میں نے ہفتہ شجر کاری کے متعلق ناظر صاحب زراعت کو اپنی طرف سے مناسب مشورہ بھجوا دیا ہے اس مشورہ کا خلاصہ دوستوں کی اطلاع اور تحریک کے لئے درج ذیل کرتا ہوں دوست توجہ فرمائیں۔(1) درخت لگانا ملک کی ترقی کے لئے کئی لحاظ سے مفید اور ضروری ہے۔مگر ربوہ کے لئے تو یہ خاص طور پر از بس ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ربوہ کی گرمی اور گر دا کنٹرول میں نہیں آسکتے جو اہلِ ربوہ کی صحت کے لئے لازمی ہے۔(2) پس اہل ربوہ کا فرض ہے کہ ہفتہ شجر کاری میں خاص طور پر حصہ لیں اور اس کے ذریعہ نہ صرف ملک کی صنعت کو ترقی دیں بلکہ اہل ربوہ کی صحت کو ترقی دینے میں بھی حصہ لے کر ثواب کمائیں۔(3) ربوہ میں خاص طور پر وہ درخت لگائے جائیں جو یہاں کی زمین اور آب و ہوا کے مناسب حال