مضامین بشیر (جلد 4) — Page 374
مضامین بشیر جلد چہارم 374 میں حسب گنجائش ایسے نادار اور غریب بچے بھی داخل کئے جاسکیں گے جو یتیم تو نہیں مگر ہونہار ہیں اور نادار اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے ان کے لئے تعلیم و تربیت کا کوئی انتظام نہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر میں حصہ لینے والوں کو بہترین اجر سے نوازے اور کام کرنے والوں کو بھی بہترین رنگ میں جماعت کے یتامیٰ کی خدمت کی توفیق دے۔یہ چندہ افسر صاحب امانت صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے نام آنا چاہئے اور رقم بھجواتے ہوئے یہ صراحت کر دی جائے کہ یہ رقم دار الیتامی کی امداد کے لئے ہے مزید خط و کتابت عزیز میر داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمد یہ ربوہ کے ساتھ کی جائے جو اس دار الیتامی کے نگرانِ اعلیٰ ہوں گے اور ممکن ہے کہ وہ نقد امداد کے علاوہ اس ادارے کی امداد کے لئے بعض اور رستے بھی تجویز کر سکیں بہر حال دو قسم کی امداد کی ضرورت ہوگی۔ایک وقتی امداد تا کہ ابتدائی اخراجات کے ذریعہ دار الیتامی قائم کیا جا سکے اور دوسرے مستقل امداد جس کے ذریعہ طلباء کے خوردونوش اور کتب وغیرہ کا انتظام کیا جائے گا ان دونوں کی تفصیل پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ بہتر بتاسکیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنے والد بزرگوار کی طرح سوچ بچار سے کام لیں گے تو امداد باہمی کے طریق پر کئی رستے کفایت کے نکل آئیں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو۔( محرره 26 مئی 1962 ء ) 24 (روز نامه الفضل یکم جون 1962ء) مخلصین جماعت حضرت صاحب کے لئے دعاؤں میں لگے رہیں چند دن سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز غالبا گرمی کی شدت اور بیماری کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے کچھ زیادہ کمزوری محسوس فرماتے ہیں۔محصلین جماعت کو چاہئے کہ حضور کی صحت کے لئے صبر اور عزم کے ساتھ دعاؤں میں لگے رہیں اور اس معاملہ میں ہرگز ست نہ ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی جگہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ دعاؤں کے زمانہ کے لمبا ہو جانے سے ہرگز کبھی گھبرانا نہیں چاہئے۔بلکہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ مومنوں کی دعاؤں کا زمانہ جتنا زیادہ لمبا ہو جاتا ہے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں جتنی دی لگتی ہے اتنی ہی وہ خدا کی رحمت کو زیادہ کھینچتی ہے۔کیونکہ ہمارا آسمانی آقا اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ میرا بندہ کسی صورت میں بھی مایوس ہو کر تھکتا نہیں بلکہ ہر حال میں میری رحمت کا