مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 368 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 368

مضامین بشیر جلد چہارم 368 کے اور خرچ اور انتظامی پہلوؤں پر غور کر کے اگر ممکن ہو تو لاہور میں احمد یہ ہوٹل کے اجراء کے لئے آئندہ مجلس مشاورت میں یہ معاملہ پیش کریں“۔( یہ معاملہ صدرانجمن احمدیہ کے زیر غور ہے ) (8) فیصلہ نمبر 10 مورخہ 61-7-2 اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ ربوہ کے مقیم لوگوں کے لئے عموماً اور مہمانوں کے لئے خصوصاً مسجد مبارک ربوہ میں عصر کی نماز کے بعد روزانہ ما استثنیٰ جمعہ کے ) قرآن مجید کے ایک رکوع کا با قاعدہ درس ہونا چاہئے۔اس کے لئے فی الحال مولوی جلال الدین صاحب شمس کو مقرر کیا جائے۔اور ان کی غیر حاضری میں کوئی اور مناسب دوست یہ درس دیا کریں تا کہ قرآن کا یہ درس بغیر ناغہ کے جاری رہے اور یہ درس ربوہ کی زندگی کا ایک اہم اور دلکش پہلو بن جائے۔(اس وقت محترم شمس صاحب کی عدم موجودگی میں صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب درس دیتے ہیں ) (9) فیصلہ نمبر 3 مورخہ 61-10-1 نگران بورڈ کو یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ گوجرانوالہ میں جو چار ضلعوں کے خدام کے تربیتی کورس کا اجتماع گزشتہ دنوں میں ہوا ہے وہ خدا کے فضل سے بہت کامیاب رہا تھا اور اس کی وجہ سے نو جوانوں میں نئی زندگی کی لہر اور کام کا نیا جذبہ پیدا ہوا۔نگران بورڈ تجویز کرتا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات مختلف مراکز میں ضرور وقفہ وقفہ کے ساتھ ہوتے رہیں تا کہ جماعت کی بیداری اور نوجوانوں کی تربیت کا موجب ہوں۔اسی طرح سے جو اجتماع عہدیداران ضلع شیخو پورہ کا گزشتہ دنوں میں شیخو پورہ میں ہوا وہ بھی خدا کے فضل سے کامیاب اور مفید اور نتیجہ خیز رہا۔اسی طرح کراچی اور راولپنڈی اور پشاور و دیگر مقامات کے اجتماعات بھی ایک عرصہ سے خدا کے فضل سے بہت کامیاب نتائج پیدا کر رہے ہیں۔بورڈ کی طرف سے جماعت میں تحریک کی جائے کہ خدام اور انصار اللہ اور عہدیداران جماعت کے اجتماعات مناسب موقع پر اور مناسب مقامات میں ضرور وقتاً فوقتاً منعقد کئے جائیں تاکہ وہ نوجوانوں اور انصار اللہ اور عہد یداران جماعت کی تربیت اور بیداری کا موجب ہوں اور نیکی اور خدمت اور اتحاد جماعت کے جذبے کو ترقی دیں“ (10) فیصلہ نمبر 4 مورخہ 61-10-1 صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلائی گئی کہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی تبلیغی مساعی کا زور ہو رہا ہے اور جیسا کہ بعض اخباروں کی رپورٹوں سے ظاہر ہے ناواقف مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی جہالت اور اسلامی تعلیم کی ناواقفیت کی وجہ سے عیسائیت کی آغوش میں جا رہا ہے۔اس تحریک کو