مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 362 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 362

مضامین بشیر جلد چهارم 362 موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور حضور کے پاک ورثہ کی طفیل ہے اور اس کے مقابل پر میری کمزوریاں یقیناً میرے اپنے نفس کی طرف سے ہیں۔وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوْءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي وَاللهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيْمِ الرَّحِيمِ - محررہ 15 مارچ 1962ء) روزنامه الفضل 20 مارچ 1962ء) مجلس مشاورت کے اجلاس پر ایک طائرانہ نظر اس دفعہ مجلس مشاورت سے پہلے میری طبیعت کافی کمزور تھی اور اعصابی بے چینی بھی رہتی تھی۔اس لئے میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ اگر میری جگہ کسی اور صاحب کو مشاورت کے کام کے لئے مقرر فرمایا جائے تو مناسب ہوگا لیکن میری درخواست کے با وجود حضور نے اس عاجز کو ہی مشاورت کی صدارت کے لئے ارشاد فر مایا اور میں نے خدا سے دعا کرتے ہوئے حضور کے ارشاد کی تعمیل کی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میری کمزوری اور علالت کے باوجود یہ تین دن خدا کے فضل سے بخیریت گزر گئے اور ٹانگوں کی کمزوری کے علاوہ میں نے ان ایام میں کوئی خاص کمزوری محسوس نہیں کی۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مشاورت کے طویل اجلاسوں کی کوفت کا اثر تو طبعا ہونا ہی تھا مگر نمعلوم کیوں مشاورت کے بعد کمزوری اور اعصابی بے چینی پھر عود کر آئی۔پس دوست اس عاجز کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں کیونکہ حق یہی ہے کہ خدا کی رحمت ہی ہمارے سارے کاموں اور ہماری ساری طاقتوں کا شہتیر ہے۔جہاں تک مشاورت میں طے پانے والی سفارشات کا تعلق ہے میں نے ان میں صرف کسی جگہ مختصرسی ضروری تشریح وتوضیح پیش کرنے کے علاوہ کوئی دخل نہیں دیا۔اور سب کمیٹیوں کے ممبروں اور دوسرے نمائندوں اور مرکزی افسروں کو اپنے اپنے خیالات کے اظہار اور دوسروں کی آراء پر جرح کرنے کا حتی الوسع پورا پورا موقع دیتا رہا۔سوائے اس کے کہ بالکل آخر میں آکر وقت کی تنگی کی وجہ سے مجبوراً کچھ حد بندی کرنی پڑی اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حد بندی بھی اکثر مبروں کی منشاء کے مطابق تھی۔البتہ میں نے یہ ضرور محسوس کیا کہ صدر انجمن احمد یہ کا بجٹ جس تفصیلی بحث کا حقدار تھا وہ شائد مشاورت میں نہیں ہوسکی۔کیونکہ اکثر زمیندار ممبروں کو اعداد وشمار میں زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔حالانکہ اس کے لئے ہر بولنے والے کو کھلی اجازت دی گئی تھی۔تاہم بجٹ کی عمومی بحث