مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 16 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 16

مضامین بشیر جلد چهارم 16 قائم کر رہا ہے۔اس لئے اے مسیح محمدی! تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے کہ میری تو حید اور تفرید۔اور چونکہ عیسائیوں نے جھوٹ اور افتراء کے طور پر اپنے مسیح کو خدا کا اصلی بیٹا بنا رکھا ہے اس لئے میری غیرت نے تقاضا کیا کہ میں تیرے ساتھ ایسا ہی پیار کروں کہ جو اولاد کا حق ہوتا ہے۔تا کہ دنیا پر ظاہر ہو کہ محمد رسول اللہ کے شاگرد تک اطفال اللہ کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں۔اور چونکہ تو میرے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت میں دن رات مستغرق اور اس کی محبت میں محو ہے۔اس لئے میں تجھے اپنے اس محبوب کے روحانی فرزند کی حیثیت میں اپنی لازوال محبت اور اپنی دائگی معیت کے تمغہ سے نوازتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ کی اس محبت اور اس معیت اور اس غیرت پر ناز تھا۔چنانچہ جب آپ کو 05-1904ء میں مولوی کرم دین والے مقدمہ میں یہ اطلاع ملی کہ ہند و مجسٹریٹ کی نیت ٹھیک نہیں اور وہ آپ کو قید کرانے کی داغ بیل ڈال رہا ہے تو آپ اس وقت ناسازی طبع کی وجہ سے لیٹے ہوئے تھے۔یہ الفاظ سنتے ہی جوش کے ساتھ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ: وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے (سیرۃ المہدی حصہ اول) چنانچہ اپنے ایک شعر میں بھی فرماتے ہیں کہ : ے جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال ڈال اے روبہ زار ونزار (براہین احمدیہ حصہ پنجم ) اور اسی نظم میں دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ: ے سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے میرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار دوستو ! میں خدا کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی بے نظیر محبت اور پھر حضرت مسیح موعود کے ساتھ خدا کی لازوال محبت کی ایک بہت چھوٹی سی جھلک آپ کو دکھا رہا ہوں۔اب اس پیج کو اپنے دلوں میں پیدا کرنا اور پھر اس پودے کو خدائی محبت کے پانی سے پروان چڑھانا آپ لوگوں کا کام ہے۔قرآن کے اس زریں ارشاد کو کبھی نہ بھولو کہ : الَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقره: 166 یعنی مومنوں کے دلوں میں خدا کی محبت سب دوسری محبتوں پر غالب ہونی چاہئے