مضامین بشیر (جلد 4) — Page 347
مضامین بشیر جلد چہارم 347 حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں ہماری دستگیری فرمائی ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل نیکی اور تقوی اور ا خلاص اور خدمت دین کے مقام پر قائم رہے گی تو حضور کی دردمندانہ دعائیں جن کا ایک بہت بھاری خزانہ آسمان پر جمع ہے قیامت تک ہمارا ساتھ دیتی چلی جائیں گی۔اپنے بچوں کی آمینوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خصوصیت کے ساتھ اپنی اولاد کے لئے اس در دوسوز اور اس آہ وزاری کے ساتھ دعائیں کی ہیں کہ میں جب بھی انہیں پڑھتا ہوں تو اپنے نفس میں شرمندہ ہو کر خیال کرتا ہوں کہ شاید ہماری کمزوریاں تو ان دعاؤں اور ان بشارتوں کی حقدار نہ ہوں مگر پھر کہتا ہوں کہ خدا کی دین کو کون روک سکتا ہے؟ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عجیب و غریب شعر کو یا د کرتا ہوں کہ:۔تیرے اے میرے مربی! کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار خدا کرے کہ ہم ہمیشہ نیکی اور دینداری کے رستہ پر قائم رہیں اور جب دنیا سے ہماری واپسی کا وقت آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ کی روحیں ہمیں دیکھ کر خوش ہوں کہ ہمارے بچوں نے ہمارے بعد اپنے آسمانی آقا کا دامن نہیں چھوڑا۔دوستوں سے بھی میری درخواست ہے کہ جہاں وہ اپنی اولاد کے لئے دین و دنیا کی بہتری کی دعا کریں ( اور کوئی احمدی کسی حالت میں بھی اس دعا کی طرف سے غافل نہیں رہنا چاہئے ) وہاں ہمارے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ صدق وسداد پر قائم رکھے اور حضرت مسیح موعود کی اُن دعاؤں کو جو حضور نے اپنی اولاد کے لئے فرمائی ہیں اور نیز اُن دعاؤں کو جو حضور نے اپنی جماعت کے متعلق فرمائی ہیں اور پھر ان بشارتوں کو جو خدا کی طرف سے حضور کو اپنی اولا د اور اپنی جماعت کے متعلق ملی ہیں بصورت احسن پورا فرمائے اور ہماری کوئی کمزوری ان خدائی بشارتوں کے پورا ہونے میں روک نہ بنے اور ہم سب خدا کے حضور سرخرو ہو کر حاضر ہوں۔آمِینَ یا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ 21 میں نے ابھی ابھی بیان کیا ہے کہ اگر جماعت احمد یہ ایمان اور ا خلاص اور قربانی کے مقام پر قائم رہے تو وہ خدا کے فضل سے اُن تمام بشارتوں سے حصہ پائے گی جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی