مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 341 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 341

مضامین بشیر جلد چهارم 341 حضرت مولوی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرب صحابی تھے اور نہایت زیرک اور معاملہ فہم بزرگ تھے بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم خان سخت بیمار ہو گیا۔چودہ دن تک ایک ہی بخار لازم حال رہا۔اور اس پر حواس میں فتور اور بے ہوتی بھی لاحق ہو گئی اور ٹائیفائڈ کا خطرناک حملہ ہوا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) علاج فرماتے تھے اور چونکہ وہ نہایت ماہر اور نامور طبیب تھے اور غیر معمولی ہمدردی بھی رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے علم کی پوری قوت اور وسیع طاقت سے کام لیا مگر بالآخر ضعف اور عجز کا اعتراف کر کے سپر انداز ہو جانے کے سوا کوئی راہ نظر نہ آئی۔اور بچہ دن بدن اور لحظہ بہ لحظہ کمزور ہو کر قبر کی طرف جھکتا چلا جاتا تھا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بڑی بے تابی کے ساتھ عرض کیا گیا کہ عبدالرحیم خان کی زندگی کے آثار اچھے نہیں اور حالت بظاہر مایوس کن ہے۔حضور پہلے سے ہی دعا فرمارہے تھے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی طرف سے اس خیال کا اظہار ہونے پر حضور نے زیادہ توجہ سے دعا کرنی شروع کی اور حضور کے دل میں اس بچے کے متعلق بہت درد پیدا ہوا۔حضور دعا فرما ہی رہے تھے کہ حضور پر خدا کی یہ فیصلہ کن وحی نازل ہوئی کہ۔” تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر (الحکم 24-17 نومبر 1903ء) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ کی یہ قہری وحی نازل ہوئی تو میں بے حد مغموم ہوا اور اس وقت میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے کہ۔یا الہی اگر یہ دعا کا موقع نہیں تو میں اس بچے کے لئے شفاعت کرتا ہوں“ اس پر خدا کی طرف سے یہ جلالی وحی نازل ہوئی کہ "مَنْ ذَالَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَة إِلَّا بِإِذْنِهِ، یعنی خدا کے حضور اجازت کے بغیر کون شفاعت کر سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت ہیبت طاری ہوئی کہ میں نے پہلا اذن شفاعت کی ہے مگر ایک دو منٹ کے بعد ہی پھر خدا کی وحی نازل ہوئی كه إِنَّكَ أَنْتَ الْمَجَارُ یعنی تجھے شفاعت کی اجازت دی جاتی ہے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفاعت کے رنگ میں دعا فرمائی اور اس کے نتیجہ میں بیمار بچہ لحظہ بہ لحظہ صحت یاب ہونا شروع ہو گیا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہر