مضامین بشیر (جلد 4) — Page 335
مضامین بشیر جلد چهارم 15% 335 مجھے اس وقت خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت کا ایک اور واقعہ بھی یاد آیا ہے جو ہے تو بظاہر بہت چھوٹا سا مگر اس میں خدائی تائید و نصرت کا عجیب و غریب جلوہ نظر آتا ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں کسی شوخ مخالف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی حوالہ طلب کیا اور بحث میں حضور کو بزعم خود شرمندہ کرنے کی غرض سے اُسی وقت دم نقد اس حوالہ کے پیش کئے جانے کا مطالبہ کیا۔وہ حوالہ تو بالکل درست اور صحیح تھا مگر اتفاق سے اس وقت یہ حوالہ حضرت مسیح موعود کو یاد نہیں تھا۔اور نہ اس وقت آپ کے حاضر الوقت خادموں میں سے کسی کو یاد تھا۔لہذا وقتی طور پر شانت کا اندیشہ پیدا ہوا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے وقار کے ساتھ صحیح بخاری کا ایک نسخہ منگوایا اور اسے ہاتھ میں لے کر یونہی جلد جلد اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور پھر ایک ورق پر پہنچ کر فرمایا یہ لوحوالہ موجود ہے۔دیکھنے والے سب دوست حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ حضور نے کتاب کے صفحات پر نظر تک نہیں جمائی اور حوالہ نکل آیا۔بعد میں کسی نے حضرت مسیح موعود سے پوچھا کہ حضور یہ کیا بات تھی کہ حضور پڑھنے کے بغیر ہی صفحے الٹتے گئے اور آخر ایک صفحہ پر رک کر حوالہ پیش کر دیا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق الٹانے شروع کئے تو مجھے یوں نظر آتا تھا کہ اس کتاب کے سارے صفحے بالکل خالی اور کورے ہیں اور ان پر کچھ لکھا ہوا نہیں۔اس لئے میں ان کو دیکھنے کے بغیر جلد جلد الٹا تا گیا۔آخر مجھے ایک ایسا صفحہ نظر آیا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا۔اور مجھے یقین ہوا کہ خدا کے فضل ونصرت سے یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے اور میں نے بلا تو قف مخالف کے سامنے یہ حوالہ پیش کر دیا اور یہ وہی حوالہ تھا جس کا فریق مخالف کی طرف سے مطالبہ تھا۔(سيرة المهدی حصہ دوم روایت نمبر 306) دوستو ! سنواور غور کرو کہ ہمارے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کیسی خارق عادت نصرت شاملِ حال تھی کہ جب مخالفوں کے ساتھ بحث کے دوران میں شماتت کا خطرہ پیدا ہوا تو ایک وفادار دوست اور مربی کے طور پر خدا تعالیٰ فوراً حضرت مسیح موعود کی مدد کو پہنچ گیا اور کشفی رنگ میں ایسا تصرف فرمایا کہ حضور کو کتاب کے سارے صفحے خالی نظر آئے اور صرف اُسی صفحہ پر ایک تحریر نظر آئی جہاں مطلوبہ حوالہ درج تھا۔یہ باتیں اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہیں کہ اسلام کا خدا ایک زندہ ، حتی و قیوم، قادر ومتصرف خدا ہے جو اپنی غیر معمولی قدرت نمائی سے اپنے خاص بندوں کو اپنے اعجازی نشان دکھا تا رہتا ہے۔