مضامین بشیر (جلد 4) — Page 334
مضامین بشیر جلد چهارم 334 بیٹھ گئے اور عربی زبان میں اپنی تقریر شروع کی جس کا پہلا فقرہ یہ تھا کہ يَا عِبَادَ اللَّهِ فَكَّرُوا فِي يَوْمِكُمْ هذَا يَوْمَ الْأَضُحى فَإِنَّةَ أَوْدِعَ أَسْرَارًا لِأُولِى النهی یعنی اے خدا کے بندو! اپنے اس دن کے معاملے میں غور کرو جو حج اور عید کی قربانیوں کا دن ہے۔کیونکہ خدا کی طرف سے اس دن میں عقلمندوں کے لئے بڑی بڑی حکمتیں ودیعت کی گئی ہیں۔حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھنے اور تقریر شروع کرنے کے بعد یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا اب حضور کسی دوسری دنیا میں چلے گئے ہیں۔حضور کی آنکھیں قریباً بند تھیں اور چہرہ مبارک کچھ اس طرح پر منور نظر آتا تھا کہ گویا انوار الہیہ نے اسے پوری طرح ڈھانپ کر غیر معمولی طور پر روشن اور ضیا پاش کر رکھا ہے۔اُس وقت حضور کے چہرہ پر نظر نہیں جمتی تھی اور حضور کی پیشانی سے نور کی اتنی تیز شعاعیں نکل رہی تھیں کہ ہر دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں۔زبانِ مبارک تو بظاہر حضور ہی کی چلتی ہوئی نظر آتی تھی مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ گویا وہ بے اختیار ہو کر کسی غیبی طاقت کے چلانے سے چل رہی ہے۔حضرت بھائی صاحب کہتے ہیں کہ اُس وقت کی حالت لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اس وقت کے انقطاع الی اللہ اور توکل اور ربودگی اور بے خودی اور محویت کا یہ عالم تھا کہ اس کی تصویر کھینچنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔حضور کی اس فصیح و بلیغ معجزانہ عربی تقریر کے بعد جو کتاب خطبہ الہامیہ کے ابتدائی اڑتیں صفحوں میں چھپ چکی ہے حاضرین کی خواہش پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اسی مجلس میں اس تقریر کا اردو میں ترجمہ کر کے سنایا۔ترجمہ کے دوران میں اللہ تعالیٰ کے کسی خاص القا یا اندرونی جذبہ کے ماتحت حضرت مسیح موعودؓ ایک فقرہ پر کرسی سے اٹھ کر بے اختیار سجدے میں گر گئے۔اور حضوڑ کے ساتھ ہی سارے حاضرین نے بھی اپنی پیشانی اپنے آسمانی آقا کے سامنے زمین پر رکھ دی۔(اصحاب احمد جلد 9 صفحہ 267 ) اس فی البدیہ اعجازی تقریر کے متعلق حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔سبحان اللہ ! اس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے۔اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا “ حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 376)