مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 324 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 324

مضامین بشیر جلد چهارم 324 بعض حصے ابھی تک حقیقتا’در مکنون ( یعنی غلافوں کے اندر چھپے ہوئے موتیوں) کا رنگ رکھتے ہیں کیونکہ اس واقعہ کی عمومی اشاعت کے باوجود یہ مخصوص حصے ابھی تک زیادہ معروف نہیں ہیں۔حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1896 ء کے نصف آخر کا زمانہ تھا کہ اچانک ایک اجنبی انسان سادھو منش بھگوے کپڑوں میں ملبوس شوگن چندر نامی قادیان میں وارد ہوا یہ شخص ایک اچھے عہدے پر فائز رہ چکا تھا اور اب اپنے بیوی بچوں کے فوت ہو جانے کے بعد دنیا سے کنارہ کش ہو کر صداقت اور خدا کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا اور اس بات کی تڑپ رکھتا تھا کہ اسے سچے رستے کا نشان مل جائے۔اسی جستجو میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام سن کر قادیان آیا اور بہت جلد قادیان کی مجالس کا ایک بے تکلف ممبر نظر آنے لگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی باتیں سن کر اور خواہش معلوم کر کے فرمایا کہ ہماری تو بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ مذاہب کے اختلاف کا فیصلہ کر کے دنیا کو سچے خدا کا رستہ دکھا ئیں۔سواگر آپ لاہور جیسے مقام میں کسی ایسے جلسہ کا انتظام کراسکیں جس میں سارے مذہبوں کے نمائندے شامل ہو کر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں اور مخلوق خدا کو خدا کا رستہ دکھانے میں مدد دیں تو یہ ایک بہت بڑی نیکی اور خدمت کا کام ہوگا اور دنیا کو اپنے بچے آقا و مالک کا نشان پانے میں مدد ملے گی۔اس پر سوامی شوگن چندر لاہور جا جا کر مختلف مذہبوں کے زعماء سے ملتے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ اور دعا کی برکت سے بالآخر ایک بین الاقوامی جلسے کی تجویز پختہ ہوگئی جس میں دین و مذہب کے اصولوں اور خدا کی ہستی اور خدا کی صفات کے متعلق پانچ ایسے بنیادی سوال مقرر کئے گئے جو ہر مذہب کی جان اور ہر دینی نظر یہ فکر کا نچوڑ ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ان سوالوں کے جواب میں ایک مفصل مضمون لکھا اور جلسہ سے کئی دن پہلے ایک اشتہار شائع کیا اور اس اشتہار میں بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ۔(1) میرا یہ ضمون سب پر غالب رہے گا۔(2) یہ مضمون خدا تعالیٰ کی کبریائی کا موجب ہو گا اور اس کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب خیبر کے یہودی قلعوں کی طرح مفتوح ہوں گے اور ان کے جھنڈے سرنگوں ہو جائیں گے۔(3) جوں جوں اس مضمون کی اشاعت ہوگی دنیا میں قرآنی سچائی زور پکڑتی جائے گی اور اسلام کا نور پھیلتا جائے گا جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کر لے۔(اشتہار ” سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری 31 دسمبر 1896ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 614-615)