مضامین بشیر (جلد 4) — Page 308
مضامین بشیر جلد چهارم 308 کے متعلق اپنے وعدہ کو غیر معمولی حالات میں پورا کرنے کا رستہ کھولتا ہے اور اپنی قدرت نمائی سے تمام روکوں کو دور کرتا چلا جاتا ہے وہاں دوسری طرف وہ مومنوں کی جماعت سے انتہائی قربانی کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور گویا ایک موت کی وادی میں سے گزار کر انہیں کامیابی کا منہ دکھانا چاہتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔احباب غور سے سنیں کہ ان الفاظ میں ان کی ترقی کی کلید ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہیں کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔یہ انسان کی بات نہیں۔خدا تعالیٰ کا الہام اور رب جلیل کا کلام ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان حملوں کے دن نزدیک ہیں۔مگر یہ حملے تیغ و تبر سے نہیں ہوں گے اور تلواروں اور بندوقوں کی حاجت نہیں پڑے گی۔بلکہ روحانی اسلحہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اترے گی سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اُس تا زگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھودیں۔اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذتمیں قبول نہ کر لیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی۔مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے“ فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 9-10) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری توجہ اور ساری کوشش عمر بھر اسی بات میں صرف ہوئی کہ آپ اپنی جماعت کو اسلام کے لئے مرنا سکھا دیں۔چنانچہ آپ کی اس تعلیم کے ماتحت آپ کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام کی خدمت میں اس طرح زندگی بسر کی کہ گویا دنیا کے لحاظ سے زندہ درگور ہو گئے اور از جہان و باز بیروں از جہاں“ کا نقشہ پیش کیا اور کثیر التعداد لوگوں نے رسمی اور ظاہری وقف کے ذریعہ بھی اسلام کی خاطر موت کی زندگی قبول کی اور دنیوی ترقیات کو خیر باد کہا۔اور بعض نے صداقت کی خاطر جسمانی موت کا مزا بھی چکھا اور شہادت کا درجہ پایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں طبعا ان کی جسمانی جدائی پر صدمہ محسوس کیا وہاں ایک بچے روحانی مصلح کی حیثیت میں ان کی غیر معمولی قربانی پر روحانی مسرت کا بھی اظہار فرمایا۔چنانچہ جب صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب مرحوم کو کابل کی حکومت نے احمدیت کی صداقت قبول کرنے کی بناء پر نہایت ظالمانہ طریق پر زمین میں کمر تک گاڑ کر سنگسار کر دیا تو حضرت مسیح موعود نے اس