مضامین بشیر (جلد 4) — Page 307
مضامین بشیر جلد چهارم 307 منہ بند کر دیں گے۔اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔( عالم کشف میں مجھے وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور کہا گیا کہ یہ ہیں وہ بادشاہ ) جو اپنی گردنوں پر تیری اطاعت کا جوا اُٹھا ئیں گے اور خدا انہیں برکت دے گا۔حاشیہ ) سواے سننے والو! ان باتوں کو یا د رکھو اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مُشتِ خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا“ تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 408-410) اوپر والے کشف میں جو آئندہ ہونے والے بادشاہوں کو گھوڑوں پر سوار دکھایا گیا ہے اس میں یہ لطیف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ بادشاہ یونہی نام کے بادشاہ نہیں ہوں گے بلکہ جاہ وحشمت والے صاحب اقتدار بادشاہ ہوں گے جن کے ہاتھوں میں طاقت کی باگیں ہوں گی۔بہر حال یہ سب کچھ انشاء اللہ اپنے وقت پر روحانی اسباب اور قلوب کی فتح کے ذریعہ پورا ہوگا اور ضرور ہو گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدائے ارض و سماء کی تقدیر ہر گزٹل نہیں سکتی۔وہ ایک پتھر کی لکیر ہے جو کبھی مٹائی نہیں جاسکتی۔جس کی صداقت کو دنیا حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک ہزاروں لاکھوں دفعہ آزما چکی ہے۔مگر ذرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انکساری اور کسر نفسی ملاحظہ کرو کہ دنیا کے سامنے تو خدائی وعدوں پر بھروسہ کر کے یوں گرجتے ہیں کہ جیسے ایک شیر ببر اپنے شکار کے سامنے گر جتا ہے۔مگر جب خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنے آپ کو ایک نالائق مزدور اور مشتِ خاک کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔حق یہ ہے کہ اسی دُہرے تصور میں خدائی مرسلوں کی کامیابی اور ان کے غلبہ کا ابدی راز مضمر ہے۔۔2 مگر جہاں خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور مامورں کی نصرت فرماتا ہے اور ان کی ترقی اور غلبہ