مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 305 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 305

مضامین بشیر جلد چهارم 305 (1) محبت الہی اور (2) عشقِ رسول اور (3) شفقت علی خلق اللہ۔اس کے بعد دوسری تقریر جلسہ سالانہ 1960 ء میں ہوئی جس کا عنوان در منشور تھا۔اس تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض علمی تحقیقاتوں اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر ڈالنے والے واقعات کا بیان تھا۔سوالحمد للہ ! کہ یہ دونوں تقریریں خدا کے فضل سے کافی مقبول ہوئیں اور ان کا عربی اور انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہو کر بیرونی ممالک میں پہنچ چکا ہے۔اس سال مجھے پھر ذکر حبیب“ کے موضوع پر ہی تیسری تقریر کے لئے کہا گیا ہے۔مگر گزشتہ ایام میں مجھے ذیا بیطس کا اتنا شدید حملہ رہا ہے کہ میں بلڈ شوگر کی زیادتی کی وجہ سے چلنے پھرنے سے ہی عملاً معذور ہو گیا تھا اور صرف پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چند قدم چل سکتا تھا۔دراصل یہ موذی مرض ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے کہ اگر سوار چوکس اور محتاط ہو کر بیٹھے اور غافل نہ ہو تو یہ گھوڑا قابو میں رہتا ہے اور سوار کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور نہ غفلت کی حالت میں بے قابو ہو کر سوار کو اوندھے منہ گرانے کے درپے ہو جاتا ہے۔مگر یہ اللہ کا فضل اور ہمدرد ڈاکٹروں کے لمبے علاج کا نتیجہ تھا کہ بالآخر اس بیماری کے حملہ سے نجات ملی اور میں اس مضمون کے بیان کرنے کے قابل ہوا ہوں۔لیکن اس عرصہ میں اتنا وقت گزر گیا کہ میں اس مضمون کے لئے خاطر خواہ تیاری نہیں کر سکا اور اب تک بھی ضعف کی صورت میں اس بیماری کا نتیجہ چل رہا ہے۔بہر حال اب جو مواد بھی میسر ہے وہ اپنے حاضرین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ 1 میں نے اس سال کی تقریر کا نام دُر مکنون رکھا ہے یعنی ” غلافوں میں لیٹے ہوئے موتی “ اس نام میں یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ گو اس وقت دنیا نے حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کو قبول نہیں کیا لیکن وقت آتا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے بیش بہا موتیوں پر سے پردے اترنے شروع ہوں گے اور لوگوں کی آنکھوں میں بھی نور کی جھلک پیدا ہوگی تو پھر دنیا ان کی قدرو قیمت کو پہچانے گی کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہمیشگی کی ضمانت لے کر آئے ہیں اور ان کے بعد جوں جوں زمانہ گزرے گا توں توں ان کی قدر و قیمت کی بلندی اور ان کے افادہ کی وسعت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔حضرت مسیح موعود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے در دو کرب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ۔