مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 298 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 298

مضامین بشیر جلد چهارم 298 ان الفاظ پر غور کرنے سے ایک خاص قسم کا روحانی سرور حاصل ہوتا ہے اور دل اس ایمان سے بھر جاتا ہے کہ خداحق ہے اور خدا کا کلام حق ہے اور حضرت مسیح موعود خدا کے بچے مامور ومرسل ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلى مَطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكُ وَسَلِّمْ - عزیز میاں شریف احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بعض لحاظ سے خاص مشابہت تھی۔یہ مشابہت جسمانی نوعیت کے لحاظ سے بھی تھی اور اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی تھی۔جسمانی لحاظ سے تو ان کا نقشہ اور خد و خال اور رنگ ڈھنگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور اس مشابہت کو ہر غور کی نظر سے دیکھنے والا انسان محسوس کرتا اور پہچانتا تھا۔چنانچہ ان کے جنازے کے وقت مجھ سے بعض دوستوں نے از خود بیان کیا کہ ان کا حلیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت ملتا ہے اور یہ مشابہت وفات میں اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی تھی۔اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی ہمارے مرحوم بھائی کو بعض لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خاص مشابہت حاصل تھی۔مثلاً اہم امور میں فیصلہ کرتے ہوئے یا مشورہ دیتے ہوئے ان کی رائے بہت متوازن اور صائب ہوتی تھی۔وہ نہ تو اپنے ایک بھائی کی طرح زبر دست جلالی شان رکھتے تھے ( گو یہ جلال بھی ایک خدائی پیشگوئی کے مطابق ہے ) اور نہ ان میں دوسرے بھائی کی طرح نرمی اور فروتنی کا ایسا غلبہ تھا جو بعض لوگوں کی نظر میں کمزوری کا موجب سمجھا جاسکتا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح ان کے مزاج میں ایک لطیف قسم کا توازن پایا جا تا تھا۔عفوو شفقت کے موقع پر وہ پانی کی طرح نرم ہوتے تھے جو ہر چیز کو رستہ دیتا چلا جاتا ہے۔مگر سزا اور عقوبت کے جائز مواقع میں وہ ایک چٹان کی طرح مستحکم تھے جسے کوئی جذبہ یا کوئی خیال اپنی جگہ سے متزلزل نہیں کر سکتا تھا۔اور طبیعت میں انتہائی سادگی اور غریب نوازی تھی۔کیا عجب کہ ان کی اسی جسمانی اور اخلاقی مشابہت کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام میں اشارہ ہو کہ اب تو ہماری جگہ بیٹھا اور ہم چلتے ہیں“ انہوں نے بہر حال ظاہری اور انتظامی رنگ میں حضرت مسیح موعود کی فوری جانشینی حاصل نہیں کی تو پھر لامحالہ استعارے کے رنگ میں اس الہام کی یہی تشریح سمجھی جاسکتی ہے جس کی طرف او پر اشارہ کیا گیا ہے۔عزیز میاں شریف احمد صاحب ایک دفعہ جماعت احمدیہ کے نظام میں قاضی بھی مقرر ہوئے تھے اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب حال حج ہائی کورٹ ان کے ساتھ کے قاضی تھے۔شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے اس دوران میں میاں شریف احمد صاحب کو بہت پختہ اور صائب رائے پایا جو بہت جلد حقیقت کو پا کر بڑی مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم ہو جاتے تھے۔اور ناواجب نرمی اور نا واجب سختی سے کلی طور پر بچ کر رہتے تھے